پاکستانی انجینئر نے سمندری ماہی گیری کیلئے جدید ترین ریفریجریٹڈ کشتی تیار کرلی

پاکستانی انجینئر نے سمندری ماہی گیری کیلئے جدید ترین ریفریجریٹڈ کشتی تیار کرلی

اس سے قبل آر ایس ڈبلیو سسٹم کی ایک بھی کشتی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہےـافتخار علی ملک

لاہور (ویب  نیوز)پاکستان نے سمندری ماہی گیری کیلئے جدید ترین ریفریجریٹڈ کشتی تیار کرکے فشریز سیکٹر میں بڑا سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ بین الاقوامی ایوارڈز یافتہ پاکستان نژاد امریکی انجینئر ڈاکٹر زاہد ایوب، جن کا تعلق پارا چنار سے ہے، نے اتوار کو یہاں صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک کو تفصیلی پریزنٹیشن میں بتایا کہ ہم نے یہ کشتی تیار کرکے تمام بین الاقوامی سٹینڈرڈز پر  پورا اترنے اور کامیاب ٹرائلز کے بعد اسے کراچی بندرگاہ پر لانچ کردیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر راجہ محمد انور ، سابق صدر ایف پی سی سی آئی انجینئر دارو خان اچکزئی ، صدر ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن مسلم خان بنووری ، معروف ایس ایم ای ماہر و بانی سیکرٹری جنرل سارک چیمبر رحمت اللہ جاوید اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ڈبلیو سسٹم کے تحت سمندری پانی کو صفر درجہ سینٹی گریڈ پر ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور بندرگاہ پہنچنے تک مچھلی کو اس درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے اس طرح مچھلی کی تازگی برقرار رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تکنیک سے پاکستان میں غریب ماہی گیروں کو بہت فائدہ ہو گا اور ماہی گیری کے شعبے کے فروغ کے علاوہ مچھلی کی برآمد میں اضافہ سے ان کی معاشی حالت بھی بہتر ہوگی کیونکہ مچھلی  خراب نہ ہونے سے وہ نقصان سے بھی بچ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کی ریفریجریشن نہ ہونے کی وجہ سے یورپی یونین نے  کئی دہائیوں سے پاکستان سے مچھلی کی امپورٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس سے قبل آر ایس ڈبلیو سسٹم کی ایک بھی کشتی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اس لئے پاکستانی ماہی گیروں کے پاس برف کے بلاکس استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور جب برف پگھل جاتی ہے تو انہیں کم شکار کے ساتھ ہی واپس جانا پڑتا ہے بصورت دیگر مچھلی خراب ہو جاتی ہے اور انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد نے مزید بتایا کہ آئس بلاکس کشتیوں میں بہت سی جگہ گھیر لیتے ہیں اور اضافی بوجھ کی وجہ سے ایندھن کی کھپت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی آر ایس ڈبلیو کشتیوں سے خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا اور پاکستان کا ماہی گیری کا شعبہ بین الاقوامی سطح کے مساوی آجائے گا۔ افتخار علی ملک نے ڈاکٹر زاہد ایوب اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان ماہی گیر اپنی کشتیوں میں یہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کیلئے وزیر اعظم کے کامیاب جوان پروگرام کے تحت مختلف بینکوں سے بلا سود قرضے حاصل کرسکتے ہیں۔