بھارت: ایک روز میں ریکارڈ کیسز، مزید 3 لاکھ 86 ہزار 925 افراد متاثر،

بھارت: ایک روز میں ریکارڈ کیسز، مزید 3 لاکھ 86 ہزار 925 افراد متاثر، ویکسین کی کمی، کئی  ویکسینیشن مرکز بند

کورونا سے3,498  اموات، مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 8 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت میں ویکسین کی کمی، ممبئی میں تمام ویکسینیشن مرکز بند

آخری رسومات کے لیے کوئی کندھا دینے کے لیے تیار نہیں، مسلمانوںکی مثالی رضاکارانہ خدمات

نئی دہلی(ویب  نیوز)بھارت میں ایک روزریکارڈ کیسز سامنے آئے، 3 لاکھ 86 ہزار 925 مزید افراد متاثر ہوئے، وبا کے بعد کسی بھی ملک کے یہ اب تک سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں،کورونا سے بچا وکی ویکسین میں کمی واقع ہو گئی، بھارت کے معاشی حب ممبئی میں تمام ویکسینیشن سنٹر تین دن کے لیے بند کر دیے گئے، شمشان گھاٹ پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا منظر زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں کورونا کے وار مزید تیز ہو گئے، مزید  3,498  افراد لقمہ اجل بن گئے۔ مہلک وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 8 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ ایک روز میں مزید 3 لاکھ 86 ہزار 925 افراد متاثر ہوئے۔ وبا کے بعد کسی بھی ملک کے یہ اب تک سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں،گذشتہ کئی روز سے بھارت میں روزانہ ریکارڈ تعداد میں لوگ وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ہر آنے والے دن اس تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔دلی میں شمشان گھاٹ پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے ایسا منظر زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ قبرستانوں میں بھی مسلسل کام چل رہا ہے، لوگ اپنے پیاروں کو دفنانے آ رہے ہیں۔دارالحکومت دلی میں 24 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے اور 395 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دلی کے ہیلتھ منسٹر نے کہا ہے کہ ان کے پاس لوگوں کو لگانے کے لیے ویکسین موجود نہیں ہے۔بھارت میں کوویڈ 19 کے مثبت آنے کی شرح کم از کم 18 فیصد ہو چکی ہے، معروف بھارتی صحافی برکھا دت کے والد کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر چل بسے۔ برکھا دت نے اسے حکومت کی غفلت، سنگدلی اور نااہلی کا نتیجہ قرار دے دیا۔علاوہ ازیںبھارت میں کورونا سے بچا وکی ویکسین میں کمی واقع ہو گئی ہے اسی سبب بھارت کے معاشی حب ممبئی میں تمام ویکسینیشن سنٹر تین دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ملک میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی یومیہ تعداد ایک نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ جمعہ کو بھارتی وزارت صحت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 386,452 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ اسی عرصے کے دوران کووڈ انیس کے سبب 3,498 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔کورونا کی وجہ سے موت کا جو رقص شروع ہوا ہے اس کی تصویروں نے ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔کہیں کوئی ماں اپنے بیٹے کی لاش آٹو رکشہ پر رکھ کر تو کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی کی لاش سائیکل پر رکھ کر لے جا رہا ہے۔ انسانی بے بسی اور بے حسی کا عالم یہ ہے کہ کوئی آگے بڑھ کر ان کی مدد کے لیے نہیں آرہا ہے۔تاریخی شہر پریاگ راج کے شیونگر محلے میں ویریش سولنکی کی جب کورونا سے موت ہوگئی توآخری رسومات کے لیے کوئی کندھا دینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ ان کے بیٹے نے لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑے مگر کسی نے مدد نہ کی۔ بالآخر کچھ لوگوں نے انہیں کرائے پر یہ خدمت فراہم کرنے والوں کے بارے میں بتایا۔مشرقی دہلی میں بھی جب ایک خاتون کی موت ہوگئی تو رشتہ داروں کی موجودگی کے باوجود کوئی انہیں کاندھا دینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ مجبورا ان کے بیٹے کو کاندھا دینے والوں کی ‘خدمات حاصل کرنی پڑی اور وہ اسے نگم بودھ شمشان گھاٹ لے گئے۔حالات اتنے ابتر ہوگئے ہیں کہ آخری رسومات ادا کرنے کے لیے کوئی مرد نہیں مل پارہا ہے، جس کی وجہ سے گھر کی خواتین کو ہی اپنے والد یا شوہر کو’مکھ اگنی دینی پڑ رہی ہے۔ ہندو رسومات کے مطابق چتا پر لاش کو بالعموم کوئی مرد ہی آگ لگاتا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایسے حالات میں جب کہ کورونا سے موت ہوجانے والے لوگوں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ لے جانے اور ان کی آخری رسومات ادا کرنے میں مدد کرنے کے لیے ان کے رشتہ دار بھی تیار نہیں ہورہے ہیں، ملک کے متعدد شہروں سے مسلم نوجوانوں کی طرف سے رضاکارانہ طورپر یہ خدمت انجام دینے کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ مسلمان اجتماعی اور انفرادی دونوں ہی سطحوں پر یہ کام کر رہے ہیں اور ان کے خدمات کی تعریف بھی ہو رہی ہے۔محمد سراج ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنے دوست اور الہ آباد ہائی کورٹ کے جوائنٹ رجسٹرار ہیم سنگھ کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے چارسو کلومیٹر کا سفر طے کرکے ان کے گاوں پہنچے۔ ہیم سنگھ کے رشتہ داروں نے آخری رسومات میں حصہ لینے سے منع کر دیا تھا۔ مدھیہ پردیش میں دو مسلم نوجوان اب تک سینکڑوں لاشوں کی آخری رسومات میں مدد کر چکے ہیں۔تمل ناڈو کی ایک تنظیم مسلم مونیتر کزگم بڑے پیمانے پر یہ کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے سکریٹری مجیب الرحمان کہتے ہیں،گزشتہ برس جب بعض لوگ دہلی میں تبلیغی جماعت کے مرکز سے واپس لوٹے تھے تو مسلمانوں کو وائرس پھیلانے والوں کے طور پیش کیا گیا تھا۔ ہمیں دلی تکلیف ہوئی تھی کیونکہ ہمارے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا تھا۔ لیکن ہم نے کوئی احتجاج نہیں کیا اور خدمت کر کے ان کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔”ہندو قوم پرست حکمراں جماعت کے بعض رہنما مسلمانوں کی رضاکارانہ خدمات سے خوش نہیں ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم مودی کے آبائی ریاست گجرات میں بی جے پی کی بڑودہ یونٹ کے صدر ڈاکٹر وجئے شاہ نے شمشان گھاٹ میں ایک مسلم نوجوان کی لاشوں کی آخری رسومات میں مدد کرنے پر ناراضگی ظاہر کی تھی