پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دبائو ڈالا گیا تھا، شیریں مزاری کا انکشاف

پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دبائو ڈالا گیا تھا، شیریں مزاری کا انکشاف

پاکستان اپنے اصولی دوٹوک موقف پر قائم ہے، کبھی دستبردار نہیں ہوگا

فلسطین اور کشمیر مسائل کے حوالے سے امریکہ خیر خواہ نہیں ہے،وزیر انسانی حقوق کا پارلیمانی فلسطین کمیٹی کے قیام کا اعلان

لیاقت بلوچ کا فلسطین اور کشمیر مسائل پر متفقہ قومی حکمت عملی بنانے کا مطالبہ

فرحت اللہ بابر نے مشترکہ کشمیر فلسطین پارلیمانی کمیٹی  کے قیام کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب

اسلام آباد(ویب  نیوز) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کیلئے پاکستان پر دبائو ڈالا گیا تھا، حکومت نے  اس دبائو کو قبول نہیں کیا، اپنے دیرینہ قومی موقف پر قائم ہیں، فلسطین کاز کیلئے  او آئی سی بنی اسی نے  یہ مسئلہ فراموش کردیا ہے، امریکہ ، فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کے حوالے  خیر خوا ہ نہیں ہوسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  بدھ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام  فلسطین کی آزادی کے بارے میں القدس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمینار کی صدارت کونسل کے سیکرٹری جنرل  اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی۔ کونسل میں شامل مختلف جماعتوں کے رہنمائوں نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر شیریںمزاری نے کہاکہ فلسطین کاز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، کسی دبائو کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ گزشتہ دنوں  پاکستان پر اسرائیل تسلیم کرنے کیلئے دبائو ڈالا گیا تھا مگر ہم نے  واضح طورپر موقف اختیار کیا کہ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دنیا میں ظلم و تشدد کی بنیادی وجہ  انسانوں کی آزادی کو سلب کرنا ہے مقبوضہ علاقوں میں  لوگ اپنے تمام سیاسی ، قانونی ، بنیادی حقوق سے محروم ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرنا تو دور کی بات ہے اس حوالے سے کوئی ذرا برابر بھی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ یوم القدس اس لئے منایا جاتا ہے کہ اسرائیل نے فلسطین پر حملہ کیا تھا۔ فلسطین کیلئے او آئی سی بنی مگر افسوس کہ او آئی سی نے ہی مسئلہ فلسطین کو فراموش کردیا ہے۔ مسلم امہ دشمن  سے کم اور آپس میں  زیادہ لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اور فلسطین دونوں مسائل کو عالم اسلام نے  نظر انداز کردیا ہے تاہم ان ممالک میں عوام میں ان مسائل پر یکجہتی اور ہم آہنگی ہے ۔ پاکستان کی  پوزیشن مضبوط اور واضح ہے اور ہم اپنی اس پوزیشن سے کبھی نہیں بھٹکیں گے۔ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے  اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے  جنگی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں ۔ بھارتی جیل میں  آسیہ اندرابی  کو رکھا گیا ہے دیگر کشمیری رہنما بھی  قید ہیں جبکہ  جنگی قوانین کے تحت مقبوضہ علاقوں کسی رہنما کو قابض ملک اپنی جیل میں نہیں رکھ سکتا۔ ہیومن رائٹس واچ نے  فلسطین میں ہونے والے مظالم  کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ امریکہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کا ہمدرد نہیں ہے۔ پاکستان یمن کیخلاف جنگ کا حصہ ہے نہ حصہ بنا ہے نہ بننا چاہیے یہی ہماری اصولی پوزیشن ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالم اسلام کے پاس معاشی اور دفاعی طاقت کے باوجود کشمیری اور فلسطینی حقوق سے محروم ہیں۔ مسلم امہ کے اتحاد کا فائدہ مظلوموں کو پہنچنا چاہیے۔ مسلم امہ کو اپنی طاقت دکھانی چاہیے۔ کشمیر اور فلسطین  کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہاکہ سارے مسلم ممالک ایک ایک کرکے اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں بلکہ اب تو بعض ممالک یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کو تسلیم کرتے  دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک دو ممالک رہ جائیں گے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ پارلیمانی کمیٹی برائے فلسطین بن سکتی ہے اس کیلئے  اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کروں گی۔ صدر سیمینار لیاقت بلوچ نے  خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فلسطین اور کشمیر میں مسلسل خون بہہ رہا ہے، ظلم و جبر مسلط ہے، دنیا یہ مسائل حل کرتے نظر نہیں آرہی۔ افغانستان میں استعماری قوتوں نے خطے کا امن تہہ و بالا کردیا ہے اور  خرابیوں کی کوکھ سے  عالم اسلام کیلئے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔او آئی سی غیر موثر ادارہ بن کر رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کا کنٹیکٹ گروپ بھی بے اثر ہوکر رہ گیا ہے۔  انتشار کی وجہ سے مسلم ممالک پر دبائو بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کو اسرائیل کیخلاف اپنے  اصولی موقف پر سختی سے قائم رہنا چاہیے۔ پاکستان فلسلطین اور کشمیر کے مسائل پر اپنے کردار اور سیاسی موقف کو واضح کرے۔ کشمیر اور فلسطین  جیل بن چکے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد نے  سارے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ کشمیر فلسطین کے مسائل حل ہوئے بغیر دنیا میں امن و سکون قائم نہیں ہوسکتا۔ کشمیر  اور فلسطین  پر متفقہ  قومی پالیسی وضع کی جائے ۔ قومی ترجیحات طے ہونی چاہیے۔ کشکول، جھولی پھیلانے، جھک جانے سے مسائل حل نہیں بلکہ  مشکلات بڑھیں گی۔ اسرائیل تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ اتحاد امت کی ضرورت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مشترکات پر متحد ہوں۔ ایران اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی  ختم کرانے  کی  اطلاعات آرہی ہیں  اس حوالے  سے  مثبت اشارے  ملے ہیں خیر مقدم کرتے ہیں شیعہ سنی کو تقسیم کرکے جو آگ لگائی گئی تھی اس سے  کچھ حاصل نہیں ہوا غیروں نے بہت کچھ کمایا۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین ، کشمیر ، افغانستان  کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے  رہنما فرحت  اللہ بابر نے مطالبہ کیا کہ  مشترکہ کشمیر فلسطین پارلیمانی کشمیر کمیٹی قائم کی جائے۔ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اتحادی افواج کی سربراہی سے دستبردار ہوں۔ دنیا بھر میں یہ تاثر ہے کہ درحقیقت  ہماری افواج کی اس جنگ کو حمایت حاصل ہے۔ یمن کی آنے و الی نسلیں پاکستان کے حوالے سے  منفی پیغام لیں گی۔ جنرل  سے ہاتھ جوڑ  کر کہتا ہوں واپس آجائیں ، ڈالروں کیلئے کوئی پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین بنیادی طورپر انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ہم نے جب عسکریت پسندی کو باہر سے فروغ دیا تو کشمیر اور فلسطین کی تحریکوں کے حوالے سے  مسائل بڑھتے گئے۔ یہ تحریکیں اندرونی طورپر مضبوط ہیں۔ انہیں  خودمختار فیصلے کرنے دیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی یہ کیسی خارجہ پالیسی ہے کہ سرحد پر بھی باڑ ہے  اور اندرون ملک بھی باڑ لگائی جارہی ہے انہوں نے اس حوالے سے گوادر کی نشاندہی کی ہے اور کہاکہ فلسطین کے  عوام کے حقوق کی جب بات کرتا ہوں تو مجھے قبائلی اضلاع کے مظلوم عوام یاد آجاتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہورہا ہے  جو اسرائیلی اتھارٹی فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں اب بھی  غیر اعلانیہ زنجیریں اور پھاٹک ہیں۔ پاکستان کے شہری یہاں تک کہ ارکان پارلیمنٹ بھی  قبائلی اضلاع نہیں جاسکتے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن عبدالرشید ترابی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ  حالیہ دنوں میں مقتدر حلقوں سے  کشمیر کے مسئلے پر ملنے والے  اشاروں نے تشویش میں مبتلا کردیا ہے کہ ماضی کو فراموش کردیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو پسپائی پر مجبور کیا جاسکتا ہے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی جیل میں اشرف صحرائی کو شہید کردیا گیا ہے اور میت ورثاء کے حوالے بھی نہیں کی جارہی۔ حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ او آئی سی ،انسانی حقوق کی تنظیموں کو جاگنے کی ضرورت ہے کیونکہ بھارتی جیلوں میں کشمیری رہنمائوں کی جانوں کیلئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل  قبلہ ایاز، کونسل کے رہنما ثاقب اکبر، مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل ناصر عباس اور دیگر رہنمائوں نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔

am-aa-nsr