برطانیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سکیورٹی تعاون کے معاہدے میں معاونت کرے گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

برطانیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سکیورٹی تعاون کے معاہدے میں معاونت کرے گا۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے جرمن  جریدے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ برطانیہ کو پاکستان اور افغانستان کے مابین سکیورٹی تعاون کے معاہدے میں  مدد فراہم کرنے کا کام سونپا گیا ہے  تاکہ وہ ایک دستاویز پر دستخط کرسکیں۔ زلمی خلیل زاد نے کہا کہ برطانیہ افغانستان اور پاکستان کے مابین سلامتی اور دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔زلمی خلیل زاد نے کہا کہ پاکستان کے افغانستان میں جائز مفادات ہیں اور افغانوں کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم سکیورٹی معاہدے پر دستخط اور افغانستان اور پاکستان کو قریب لانے کے لیے برطانیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ غیر ملکی اخبار کے مطابق  افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے ایک بیان میں کہا کہ   افغانستان دنیا کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ خطے اور پڑوسیوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔افغانستان اور پاکستان کے مابین سکیورٹی تعاون کا معاملہ دو ماہ سے گرم ہے جس میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں اور داعش اور ٹی ٹی پی کے قیدیوں کی پاکستان حوالگی کا مطالبہ شامل ہے۔پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے اور سکیورٹی تعاون میں سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے۔گذشتہ تین سالوں سے افغانستان میں قیام امن اور پاک افغان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنا کرداد مزید بڑھانے میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔6 جون کو پاکستان نے افغانستان کے لیے محمد صادق کو نمائندہ خصوصی مقرر کیا جس کا مقصد امن معاہدہ کو عملی بنانے, بین الافغان مذاکرات میں کرداد ادا کرنے اور پاکستان اور افغانستان کے مابین اقتصادی ترقی اور تجارتی ہجم کو بڑھانا ہے۔پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے میں کچھ حد تک کامیابی حاصل کی ہے