وفاقی کابینہ کا فلسطین کو انسانی بنیادوں پر طبی امداد بھیجنے کا فیصلہ

ایسا قانون لارہے ہیں کہ اگر 6 ماہ میں حلف نہیں اٹھائیں تو رکنیت منسوخ ہوگی
رنگ روڈ سیکنڈل میں کوئی وزیر یا مشیر ملوث نہیں ، زلفی بخاری نے اخلاقی طور پر استعفی دیا،وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وفاقی کابینہ نے اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینیوں کو درپیش طبی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں فلسطین کو انسانی بنیادوں پر طبی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ منگل کو اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی،وفاقی کابینہ نے فلسطین کے لیے طبی امدادی سامان بھجوانے کی منظوری دے دی۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں 14 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا اور ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فلسطین کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر اعظم نے عالمی رہنماوں سے ہونے والی گفتگو پر کابینہ کو بریف کیا۔ اجلاس کے بعد میں کابینہ کے اجلاس کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فلسطین کے مسئلے پر روز اول سے امت مسلمہ کو قیادت فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے فلسطین کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کی بنیاد رکھی اور اب عمران خان اس کے امین ہیں۔ وزیر اعظم نے مسئلہ فلسطین پر دو ٹوک موقف اپنایا ہے ، فلسطینیوں کو  میڈیکل ایمرجنسی کا سامنا ہے ، وفاقی کابینہ نے فلسطین کیلئے امدادی سامان بھجوانے کی منظوری دی ،  پاکستان فلسطین میں کورونا سے نمٹنے کیلئے امداد بھیج رہاہے،فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ کو راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی تحقیقات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ بعض ہاوسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کیلئے منصوبے میں تبدیلی کی گئی۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ کوئی وزیر یا مشیر اس میں ملوث نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری اعلی اخلاقی بنیاد پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہو گئے اگرچہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہوابازی کے وزیر غلام سرور خان کی بھی اس علاقے میں کوئی زمین نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ راولپنڈی رنگ روڈ سکیم میں اربوں روپے کھانے کی بجائے اربوں روپے بچانے کا معاملہ ہے ، ہماری کابینہ کے کسی شخص کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ ،فواد چودھری نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روڈ کا منصوبہ 2017میں بنا جس کا مقصد ہیوی ٹریفک کو شہر سے باہر رکھنا تھا، جنوری 2018میں اس کی ابتدائی الائنمنٹ منظور کی گئی ، سال 2019میں وزیر اعظم کو ایک انجینئر نے میسج کیا کہ میں اس پراجیکٹ میں کام کرتا ہوں ، اس کی الائنمنٹ کو تبدیل کیا گیا ہے ، سنگجانی کے پوائنمنٹ پر الائنمنٹ کو تنگ کر دیا گیا ہے ،پیچھے سے 120کلو میٹر کی سپیڈ پر آنیوالی گاڑیاں یہاں پر 90کلو میٹر کی سپیڈ پر آجائیں گی جس ے ٹریفک جام سمیت حادثات کا خدشہ ہوگا۔ فواد چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس انجینئر کے میسج کا نوٹس لیا اور استفسار کیا کہ کیا الائنمنٹ تبدیل کی گئی ہے جس پر انہیں بتایا گیا کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی لیکن وزیر اعظم صاحب نے ابتدائی انکوائری کروائی جس میں بتایا گیا کہ نہ صرف الائنمنٹ تبدیل کی گئی جبکہ 29کلو میٹر اٹک کی طرف منصوبہ بڑھا دیا گیا ہے جس کا مقصدوہاں بننے والی سوسائٹیز کو فائدہ دینا ہے ۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ن لیگی ارکان نے رپورٹ پڑھے بغیر شور مچایا کہ اربوں روپے کھا لیا ، حقیقت یہ ہے کہ اربوں روپے بچایا گیا ہے ، اس رپورٹ میں زلفی بخاری یا غلام سرور کا کوئی ذکر نہیں ، پیپلزپارٹی یا ن لیگ ہوتی تو میڈیا چیخ چیخ کر گلے بٹھا لیتا لیکن کوئی انکوائری نہ ہوتی ، زلفی بخاری کے ننھیال اس جگہ ہے مگر ان سے زلفی بخاری کا کوئی لینا دینا نہیں ، زلفی بخاری نے اخلاقی طور پر استعفی دیا جبکہ غلام سرور خان صاحب نے ایک انچ زمین ثابت کرنے پر مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے ،وزیر اطلاعات نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کہا کہ حکومت انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کی غرض سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز متعارف کرانے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ حزب اختلاف انتخابی اصلاحات میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کا حق دینے کے حوالے سے اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔۔فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں اصلاحات ضروری ہیں ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم )کیلئے آرڈیننس جاری ہو چکا ہے ، پارلیمانی رپورٹرز اور پارلیمانی ارکان کو دعوت دیکر مشین کی چیکنگ کرائی جائے گی ۔ 2018 کے الیکشن کے بعد ن لیگ نے پہلے کہا کہ اداروں نے ووٹ ڈالے ، پھر کہا کہ فارم 46نہیں دیے ، اب کہتے ہیں کہ پری پول دھاندلی ہوتی ہے ۔ پہلے کہتے تھے کہ آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گئے جب پوچھا کہ کس حلقے کے آر ٹی ایس سسٹم بیٹھے تو جواب نہیں دیتے ۔پھر کہتے تھے کہ ہم اس لئے ہارے کہ فارم 46 نہیں دیا گیا ، ہم نے پوچھا کہ کس جگہ پر فارم 46مہیا نہیں کیا گیا تو جواب نہیں دے پائے ۔ اس کے بعد کہا کہ اداروں کے لوگوں نے مہریں لگائیں جن کی ویڈیوز ہیں ،ہم نے کہا کہ دکھائیں کہاںہیں وہ ویڈیوز تو پھر چھپ ہو گئے ہیں ۔ الیکشن کمیشن پنجاب کو 25میں سے 13شکایات پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائی گئیں ۔ن لیگ دھاندلی کے بغیر الیکشن نہیں لڑسکتی، قومی اسمبلی میں پیر کے دن سے الیکشن اصلاحات سے متعلق بحث کا آغاز کریں گے۔ اسحاق ڈار 2018 میں سینیٹر بنے لیکن آج تک حلف نہیں اٹھایا، ایسا قانون لارہے ہیں کہ اگر 6 ماہ میں حلف نہیں اٹھائیں تو رکنیت منسوخ ہوگی۔اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہااوورسیزپاکستانیوں کوووٹ کاحق دینا چاہتے ہیں۔اوورسیزپاکستانی ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں،وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی، ای سی سی نے آئی پی پیز کو 40 فیصد واجبات ادا کرنے کی منظوری دی تھی، کرتار پور راہداری منصوبے کو پیپرا رولز سے استثنی دینے کی اصولی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے تکنیکی معاملات دیکھنے کے لیے معاملہ پیپرا کو بھجوا دیا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کی 4 گاڑیوں کو پاکستان کے راستے کابل لے جانے کی منظوری دی گئی، پاک چین سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے پر یادگاری سکہ جاری کرنے، ریلوے پولیس کے دائرہ اختیار سے متعلقہ ایس آر اوز جاری کرنے اور الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں نجی ایئر لائن کو پسنجراینڈ کارگو لائسنس جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی، علاوہ ازیں پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی فانڈیشن کے چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی کی منظوری، الیکٹرانک سرٹیفکیشن ایکریڈیشن کونسل کے ارکان تعینات کرنے کی منظوری اور بیرون ملک پاکستانی مشنز میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی تعینات کرنے کی منظوری کو فی الحال موخر کردیا گیا۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے فیصلوں اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔