فلسطینیوں کے تحفظ کیلئے عالمی فورس تعینات کی جائے، شاہ محمود قریشی

اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں کو قبضہ ختم کرنا ہوگا۔ جنرل اسمبلی اسرائیل کو واضح پیغام دے

غزہ میں اسرائیلی بمباری ہر ایک شہادت کی ذمہ دار ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کو کہا جائے بس کرو

وزیر خارجہ کاجنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب

نیویارک (ویب ڈیسک)

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے تحفظ کیلئے عالمی فورس تعینات کی جائے، فلسطین کے عوام کی آواز خاموش نہیں کرائی جاسکتی۔فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے معاملے پر جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسرائیلی کی جانب سے خون ریزی کا سلسلہ جاری ہے، لوگوں کی ایک تعداد جاں بحق ہوچکی ہے، شہریوں کی کھانا، پانی اور صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں ، اسرائیل نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ جنرل اسمبلی فلسطینیوں کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی فورس تعینات کرے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی  کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا کر رکھی ہے۔ غزہ میں اشیائے خورونوش کی شدید قلت ہے۔ غزہ میں ہنگامی بنیادوں پرخوراک بھجوانے کا بندوبست کیا جائے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری ہر ایک شہادت کی ذمہ دار ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کو کہا جائے بس کرو۔ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان برابری کی کوشش غلط ہے، یہ ظالم اور مظلوم کے درمیان تنازع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں غزہ اور مقبوضہ فلسطین کی ہر ممکن انسانی امداد کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ انسانی امداد پہنچانے کے لئے جامع پلان تیار کرے۔ جنرل اسمبلی فلسطینیوں کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی فورس تعینات کرے، جو ممالک تیار ہیں ان کے سویلین آبزرورز کو فلسطین بھیجا جا سکتا ہے۔شاہ محمود قریشی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ تاریخی مرحلہ ہے، جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین پر بربریت کی انتہا کر دی ہے۔ فلسطین میں بچوں اور عورتوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ غزہ کے ہر گھر میں شہادتیں ہو رہی ہیں۔ اسرائیل نے ابو حتاب خاندان کے 8 بچوں اور 2 خواتین کو شہید کر دیا۔انہوں نے فلسطین کی ابتر صورتحال بارے دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 50 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، وہاں پینے کا صاف پانی تک فراہم نہیں ہے۔ غزہ تاریکی میں ڈوب چکا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ میں واحد روشنی اسرائیلی دھماکوں کی ہے۔ اسرائیلی بمباری سے عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ہم اسلامی ممالک کے نمائندے ان کے لئے بات کرنے آئے ہیں۔ سلامتی کونسل اپنی بنیادی ذمہ داری اور جارحیت روکنے کا مطالبہ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اب جنرل اسمبلی اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے، اسرائیلی بربریت کو روکنا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنرل اسمبلی شیخ جراح میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مذمت کرے۔ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں کو قبضہ ختم کرنا ہوگا۔ جنرل اسمبلی اسرائیل کو واضح پیغام دے۔ پاکستان کے انقلابی شاعر کی بات پر اختتام کرتا ہوں ، اے ارض فلسطین میں بھی حاضر ہوں،اس سے قبل وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے صدر کیساتھ اہم ملاقات میں اسرائیل پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اور فوری طور پر سیز فائر کروائے جانے کے پاکستان کے مطالبے کو دہرایا ہے۔شاہ محمود نے اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹرز نیویارک میں جنرل اسمبلی کے صدر جناب والکن بوذکر کے ساتھ ملاقات اہم ملاقات کی۔ دوران ملاقات فلسطین، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، کورونا وبائی چیلنج سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے فلسطین کے حوالے سے جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے پر صدر جنرل اسمبلی کی متحرک قیادت کی تعریف کی۔مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اس ہنگامی اجلاس کے ذریعے اقوام متحدہ کے باقی اداروں بالخصوص سلامتی کونسل کو واضح پیغام جائے گا جن کی بنیادی ذمہ داری، عالمی امن و سلامتی کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم مظلوم فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی جارحیت پر شدید مضطرب ہے۔وزیر خارجہ نے صدر جنرل اسمبلی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری نوجوانوں کی ماورائے عدالت شہادتوں اور ان کی قیادت کی نظر بندیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے چیرمین تحریک حریت جموں و کشمیر کی زیر حراست شہادت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے جنوبی ایشیا میں قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے نے صدر جنرل اسمبلی کو کرونا عالمی وبا کے اقتصادی مضمرات سے نمٹنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی تجاویز سے آگاہ کرتے ہوئے اس عالمی وبا کے پھیلا کو روکنے کیلئے عالمی سطح پر موثر کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صدر جنرل اسمبلی جناب والکن بوذکر کو جلد دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی۔