برآمدات میں اضافے کے باوجود تجارتی خسارہ بڑھنا تشویشناک ہے اس مسئلے کو متقل طور پر حل کیا جانا چاہیے: میاں نعمان کبیر و دیگرکا خطاب

 

لاہور (ویب ڈیسک)

پاکستان اس وقت ملک کے مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے.سیاسی دشمنی کی بجائے معاشی بہتری کے لیے نیشنل ایکشن پلان بنایا جائے ، ملکی معیشت کی بہتری کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنا ہو گا یہ وقت سایسی دشمنی کیلئے نہیں ۔آئی ایم ایف کی ہر بات ماننے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے صرف جون میں6.3 b$  کی امپورٹ ہونا تشویشناک ہے۔امپورٹ بڑھنے سے تجارت عدم توازن کا شکار ہے جسے روکنا بہت ضروری ہے ، پاکستان میں اس وقت غیر یقینی صورت حال عروج پر ہے ، ایک طرف کورونا وائرس کی چوتھی لہر تو دوسری طرف افغانستان کی غیر یقینی صورت حال سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار لمعروف اکانومسٹ اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز ( پیاف) کے زیر اہتمام "پاکستان اکانومی چیلنجز اینڈ سالوشنز” کے عنوان سے تقریب میں کیا۔ تقریب میں مہمان خصوصی ڈاکٹر پاشا کے علاوہ سابق صدر فیڈریشن چیمبرز میاں انجم نثار، چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر، سیئنر تجزیہ نگار سکندر لودھی، سابق صدور لاہور چیمبر میاں شفقت عکی، محمد علی میاں، سہیل لاشاری، ملک طاہر جاوید سیکرٹری پیاف عبد ا  لصبور سمیت ای سی ممبران لاہور چیمبر اور سینکڑوں کی تعداد میںبزنس کمیونٹی نے شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے کہا کہ مالی استحکام پاکستان کی معیشت کا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ وفاقی بجٹ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ قرضوں کی نذرہو جاتا ہے۔ برآمدات میں اضافے کے باوجود تجارتی خسارہ بڑھنا تشویشناک ہے اس مسئلے کو متقل طور پر حل کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے ڈاکٹر حفیظ پاشا سے کہا کہ اپنی آنیوالی کتاب "چارٹر آف اکانومی” کی تقریب رونمائی پیاف کے پلیٹ فارم سے کریں۔سابق صدر فیڈریشن چیمبرز میاں انجم نثار نے کہا کہ نامنافق پالیسیز کی وجہ سےGSP سٹیٹس کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے،مختلف  PTA   اورFTA سے معیشت کو نقصان ہو رہا ہے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے معاہدے کیے جائیں۔