ای وی ایم الیکشن کمیشن کی تمام شرائط پورا کرتی ہیں، ٹیکنالوجی کے حوالے سے تمام کام مکمل ہے،میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین انتخابات میں شفافیت کا بہترین ذریعہ ہے ،آئندہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کرائے جا سکتے ہیں، ٹیکنالوجی کے حوالے سے تمام کام مکمل ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے ہو گیا تو آئندہ انتخابات ای وی ایم پر کرائے جا سکتے ہیں، یہ مشین انتخابات میں شفافیت کا سب سے بہترین ذریعہ ہے، انتخابات میں شفافیت کے حوالے سے میکنزم تیار کرنا ہوگا، ای وی ایم الیکشن کمیشن کی تمام شرائط پورا کرتی ہیں، ٹیکنالوجی کے حوالے سے تمام کام مکمل ہے، ای وی ایم سے دھاندلی کے امکانات کم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ووٹنگ مشین پر ہمارا زور اس لئے ہے کہ یہ انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، عام طور پر انتخابات کے دوران ووٹنگ پانچ بجے ختم ہو جاتی ہے اور ہمیں نتائج کے انتظار کے لئے صبح تک انتظار کرنا پڑتا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کے استعمال سے انتخابی نتائج فوری دستیاب ہوں گے،اس میں الیکٹرانک ٹریل کے ساتھ پیپر ٹریل بھی دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آخر ایسا کونسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ الیکشن میں دھاندلی کے الزامات دور کئے جا سکیں، اگر اپوزیشن والے الیکشن ہارتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی اور جیت جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انتخابات ٹھیک ہوئے ہیں، اس حوالے سے ایک میکنزم تیار کرنا ہوگا جس سے انتخابات کی شفافیت پر سوال نہ اٹھایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں شفافیت کا وزیراعظم اور پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ انتخابات میں شفافیت کے لئے ٹیکنالوجی کی طرف بڑھا جائے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتخابات میں فرسٹ ورلڈ کی طرز پر شفافیت آئے گی۔ الیکشن کمیشن نے 36 شرائط سامنے رکھیں اور کہا کہ اگر کوئی مشین ان 36 شرائط کو پورا کرتی ہیں تو وہ الیکشن میں استعمال کی جا سکتی ہے۔اپوزیشن پہلے ان مشینوں کو دیکھے پھر اپنا فیصلہ کرے۔ اس وقت انتخابی اصلاحات میں تین طرح کی ٹیکنالوجیز پر بات ہو رہی ہے جن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین، انٹرنیٹ ووٹنگ اور بائیو میٹرک شامل ہیں، یہ تینوں اکٹھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سے اس ضمن میں بل منظور ہو چکے ہیں جو اب سینیٹ میں ہیں۔ سینیٹ کی دو کمیٹیاں اس پر کام کر رہی ہیں، سینیٹ کی پولیٹیکل کمیٹی اپوزیشن اور حکومت کے اراکین پر مشتمل ہے جس میں یہ بل زیر بحث ہیں۔ جبکہ سینیٹ کی پارلیمانی افیئرز کے بارے میں کمیٹی کے اندر بھی اس بل پر غور جاری ہے۔ اگر سینیٹ میں اس بل پر مزید ترامیم آئیں تو یہ دوبارہ قومی اسمبلی میں آئے گا اور وبارہ ووٹنگ ہوگی۔