سندھ ہائیکورٹ کا دودھ کی زائد قیمتوں،غیر معیاری فروخت کیخلاف کارروائی کاحکم

دودھ کی فی کلو قیمت 110 روپے مقررکی گئی،وکیل بلدیہ عظمیٰ کراچی
آپ کو معلوم ہے کہ کراچی میں 160 روپے فی کلو دودھ مل رہا ،عدالت کا اے سی سے استفسار
کمشنر کراچی خود نگرانی کررہے اورگراں فروشی کے خلاف کارروائی ہورہی ہے،وکیل بلدیہ عظمیٰ کراچی
عدالت نے سندھ فوڈ اتھارٹی اورکمشنر کراچی کو 21 ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی

کراچی (ویب ڈیسک)

سندھ ہائی کورٹ نے زائد قیمت اور غیر معیاری دودھ کی فروخت کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ۔جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں دودھ کی قیمتوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دودھ کی فی کلو قیمت 110 روپے مقررکی گئی ۔جسٹس اقبال کہلوڑو نے استفسارکیا کہ یہ قیمت کس بنیاد پر110 روپے قیمت مقرر کی گئی۔دودھ میں کیمیکل ملانے کی اطلاعات آرہی ہیں،معیار کون چیک کرتا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی دودھ کا معیار چیک کرتی ہے۔ اس پرعدالت نیاسسٹنٹ کمشنرپربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آپ اوپرکیوں بیٹھے ہیں اورآپ کا کام اس کودیکھنا ہے۔ عدالت نے اسسٹنٹ کمشنر کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کراچی میں 160 روپے فی کلو دودھ مل رہا ہے۔ آپ عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لے رہے ہیں اور آپ کو چاہئے کہ کام بھی کریں۔عدالت نے حکم دیا کہ فوڈ اتھارٹی بھی سورہی ہے،ان کو چاہئے کہ آپریشن شروع کریں۔اس پر سندھ فوڈ اتھارٹی کے وکیل نے بتایا کہ ہم روزانہ چھاپے ماررہے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ صرف دکھاوے کے چھاپے نہیں چاہئیں،جا کر کام کریں۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے وکیل نے مزید بتایا کہ کمشنر کراچی خود نگرانی کررہے ہیں اورگراں فروشی کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔عدالت نے گراں فروشی اورغیرمعیاری دودھ کے خلاف کارروائی نہ کرنے پربرہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ نوٹیفیکیشن جاری ہوجاتا ہے مگرعمل درآمد نہیں ہوتا۔عدالت نے واضح کردیا کہ یہ عوام کا براہ راست مسئلہ ہے اور ہم حکم پرعمل درآمد کرائیں گے۔سندھ ہائی کورٹ نے سندھ فوڈ اتھارٹی اورکمشنر کراچی کو 21 ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔