اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیوں کا معاملہ ،ملک بھر میں وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی سنیارٹی  کے اصول پر عمل نہ کرتے ہوئے تعیناتیوں کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل خوش دل خان اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی کال پر جمعرات کے روز ملک بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکلاء بطور احتجاج ججز کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔سپریم کورٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی،سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن علی احمدکرد، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حامد خان ایڈووکیٹ،  وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل خوش دل خان، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین خان ، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بہلول خان خٹک ایڈووکیٹ،سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سید امجد شاہ ایڈووکیٹ اور ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور ججز کی سنیارٹی کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیوں کا مطالبہ کیا۔ جبکہ ملک بھر میں وکلاء نے ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں کا بھی بائیکاٹ کیا اور بطور احتجاج وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ واضح رہے کہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور ملک بھر کی بار کونسلز کے درمیان اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے جھگڑ اس وقت شروع ہوتا تھا جب چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے سندھ ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ پرپانچویں نمبر پر موجود جج جسٹس محمد علی مظہر کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں تعیناتی  کے لئے نامزد کیا تھا۔  چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی محمد شیخ، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی کو چھوڑ کر جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔ ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کے جج کے لئے نامزد کیاتو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ملک کی دیگر ایسوسی ایشنز نے اس فیصلہ کے خلاف آواز بلند کی اور متعدد ہڑتالیں بھی کیں تاہم وکلاء کی مخالفت کے باوجود اور جوڈیشل کمیشن کے ممبران کے ووٹ برابر ہونے پر چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنا ووٹ کاسٹ کر کے جسٹس محمد علی مظہر کی سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر منظوری  دے دی تھی۔  جسٹس محمد علی مظہر بطور سپریم کورٹ جج حلف بھی اٹھا چکے ہیں۔ جبکہ وکلاء کے احتجان  کے بعد  جوڈیشل کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی محمد شیخ کو  سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایڈہاک جج تعینات کرنے کی منظوری دی تاہم انہوں نے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج تعینات ہونے سے معذرت کر لی۔جسٹس محمد علی مظہر کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کا تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر موجود جج عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ کے18اگست کو  ریٹائرڈ ہونے والے سینئر ترین جج مشیر عالم کی خالی ہونے والی نشست پر تعیناتی کے لئے نامزد کر دیا۔ لاہور ہائی  کورٹ کی سنیارٹی لسٹ پر پہلے  نمبر پر جج  چیف جسٹس لاہور ہائی جسٹس محمد امیر بھٹی ہیں، دوسرے جج ملک شہزاد احمد خان ہیں جبکہ تیسرے جج شجاعت علی خان ہیں۔وکلاء تنظیموں نے جسٹس عائشہ اے ملک کی بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان نامزدگی کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کو سنیارٹی کی بنیاد پر تعینات کیا جائے۔