جو شمع علی گیلانی نے کشمیر کے باسیوں کے دلوں میں جلا دی ہے وہ کبھی نہیں بجھے گی.سراج الحق

لاہور (ویب ڈیسک)
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حریت کے علمبردار، نڈر اور بے باک عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر ان کی طویل اور استقامت سے لبریز جدوجہد آزادی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ منصورہ میں مرحوم کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھانے سے قبل ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کشمیریوں کو پیغام دیا کہ انہیں یقین ہے کہ بھارت کے ظلم وجبر کے سامنے ڈٹ جانے کی جو شمع علی گیلانی نے کشمیر کے باسیوں کے دلوں میں جلا دی ہے وہ کبھی نہیں بجھے گی، اس کی روشنی ایک چراغ سے دوسرے چراغ میں منتقل اور وادی کو اپنے نور سے مزین کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کشمیر بھارت کے جبر سے آزاد ہو گا اور پاکستان کا حصہ بنے گا، علی گیلانی پاکستانی تھے اور پاکستان ان کا تھا۔ ہر پاکستانی کا دل کشمیریوں کے لیے دھڑکتا ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا،جو جلد مکمل ہو گا۔
نماز جنازہ کے اجتماع سے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے بھی خطاب کیا۔ نائب امراء جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو، ڈاکٹر فرید پراچہ،امیر جماعت اسلامی جنوبی وسطی پنجاب جاوید قصوری، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، نائب قیمین وقاص جعفری، محمد اصغر، اظہر اقبال حسن، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہد، مذہبی و سیاسی شخصیات، اساتذہ، نامور صحافیوں اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے پاکستانیوں کے ہر دلعزیز کشمیری رہنما کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ جماعت اسلامی کے زیراہتمام دیگر شہروں میں بھی علی گیلانی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا گئی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی درندوں کی طرف سے علی گیلانی کی میت کی بے حرمتی اور ان کے عزیزواقارب پر تشدد کا معاملہ پوری دنیا میں اٹھائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ قابض فوج نے مرحوم کو ان کی وصیت کے مطابق سری نگر کے شہدا قبرستان میں بھی دفن نہیں ہونے دیا۔لاکھوں کشمیری ان کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے لیے بے تاب تھے، مگر سری نگر میں کرفیو ہے۔ امیر جماعت نے بھارتی ظالمانہ اقدامات پر عالمی برادری کی خاموشی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے اس عہد کی تجدید کی کہ ہزاررہا ستم کے باوجود آزادی اور حریت کے متوالے سروں پر کفن باندھ کر ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے اور امت کے نوجوانوں کے دلوں میں آزادی کا بیج بوتے رہے گے۔ فلسطین کے شیخ یاسین ہوں یا مصر کے محمد مرسی، بنگلہ دیش کے مطیع الرحمن ہوں یا کشمیر کے علی گیلانی اور اشرف صحرائی، حریت پسندوں کو پھانسی کے پھندوں پر تو لٹکایا جا سکتا ہے، مگر ان کو خریدا اور جھکایا نہیں جا سکتا۔ حریت پسندوں کی لاشوں سے بھی آزادی کے حق میں اور ظلم و استبداد کے خلاف نعروں کی صدائیں بلند ہوتی رہیں گے۔ امیر جماعت نے پاکستانی حکمرانوں کو کشمیر کاز پر کمزوری دکھانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ علی گیلانی ہی تھے جو مشرف دور میں بھارت کی جانب سے ایل او سی پر باڑ لگانے سے لے کر موجودہ حکمرانوں تک کو یہ مشورہ دیتے رہے کہ وہ نئی دہلی کے سامنے کمزوری نہ دکھائیں۔ انہوں نے لمبا عرصہ قید و بند میں گزارا، وہ علیل تھے، کمزور تھے، مگر ان کے جذبے جواں اور روح بیدار رہی۔ علی گیلانی آزادی کا مینارہ تھے، وہ ایک نظریہ اور امت کے رہنما، ہم ان کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو روشن اور کشمیریوں کی مدد فرمائے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ علی گیلانی کی سوچ کو آنے والے دنوں میں مزید تقویت ملے گی، ان کی جلائی ہوئی شمع جلتی رہے گی، کشمیری کبھی بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے، کشمیر آزاد ہوگا، پاکستان کا حصہ بنے گا اور علی گیلانی کے خواب کو تعبیر ملے گی انشاء اللہ
لیاقت بلوچ اور امیر العظیم نے بھی اپنے خطاب میں حریت رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے دنیا سے رحلت کو ایک بڑے سانحہ سے تعبیر کیا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگرچہ علی گیلانی کی وفات سے جدوجہد آزادی کو بڑا دھچکا لگا، کیوں کہ وہ تحریک حریت کے روحِ رواں تھے، مگر انھیں یقین ہے کہ کشمیری بھارتی قبضہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے اور آزادی کا سورج وادی پر ضرور طلوع ہو گا۔ انھوں نے کشمیریو ں کو یقین دلایا کہ پاکستانی قوم آزادی کی جدوجہد میں ان کی پشتیبان ہے۔
مزید برآں سید علی گیلانی کی وفات پر اظہار تعزیت اور دعا کا سلسلہ منصورہ میں آئندہ تین روز تک جاری رہے گا۔ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت موجود ہو گی۔