خواتین کے حقوق پر شورکرنے والی این جی اوز مسلم خواتین کے حجاب کے معاملے میں جابنداری ترک کریں،اسما سفیر

عالمی یوم حجاب، جماعت اسلامی خواتین کے تحت حجاب آگہی واک کا انعقاد
رخشندہ منیب اور اسما سفیر کی زیر قیادت واک شدید بارش کے باوجود جاری رہی، حیا اور حجاب کے حوالے سے بینرز اور پلے کارڈز
خواتین کے حقوق پر شورکرنے والی این جی اوز مسلم خواتین کے حجاب کے معاملے میں جابنداری ترک کریں،اسما سفیر
جماعت اسلامی حلقہ خواتین،خواتین کے حقوق و فرائض اور حجاب کے کلچر کو عام کرنے کے لیے جد وجہد کر رہی ہیں،فاروق نعمت اللہ

کراچی( ویب  نیوز)جماعت اسلامی حلقہ خواتین ضلع گلبرگ وسطی کے تحت4ستمبر عالمی یوم حجابکے موقع پر طاہر ولا چورنگی تا عائشہ منزل فیڈرل بی ایریا حجاب آگہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی قیادت جماعت اسلامی حلقہ خواتین صوبہ سندھ کی ناظمہ رخشندہ منیب اور کراچی کی ناظمہ اسما سفیر نے کی۔ شدید بارش کے باوجود خواتین نے واک مکمل کی اور انتہائی نظم و ضبط وزبردست استقامت کا مظاہرہ کیا۔واک میں خواتین نے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ حیا اور حجاب اسلام کے نظام عفت و عصمت کا نام ہے،حیاوحجاب کی تہذیب پورے معاشرے کا احاطہ کرتی ہے۔حجاب آزادی اور پاکیزگی کی توانا علامت، واک سے امیر جماعت اسلامی ضلع گلبرگ فاروق نعمت اللہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کی سیکریٹری اطلاعات ثمرین احمد، ناظمہ ضلع گلبرگ وسطی عفیفہ چغتائی، نائب ناظمہ ضلع طلعت ندیم بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ اس موقع پراسما سفیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا  بھر میں خواتین کے حقوق پر شورکرنے والی این جی اوز مسلم خواتین کے حجاب کے معاملے میں جابنداری ترک کریں۔عورت کا اصل مقام و مرتبہ حیا اور حجاب میں ہے۔قومیں معاشی بدحالی سے نہیں بلکہ اخلاقی پستی سے تباہ ہوتی ہیں۔دنیا حجاب کی مخالفت کے بجائے اس کی افادیت کو محسوس کرے اور مسلمان خواتین کو حجاب اختیار کرنے کا بنیادی انسانی حق دے۔اشتہارات اور ڈراموں میں عورت کا استحصال بند کیا جائے اور خواتین کی عزت اور احترام کی ترغیب و ترویج کی جائے۔جماعت اسلامی نے ہمیشہ ملک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے اور خواتین کی عزت و وقار کو برقرار رکھنے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔آج لمحہ فکریہ ہے کہ  معاشرے میں ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جس کے اندر اخلاق و کردارکمی ہے، ہمیں اس کمی کو دور کرنا ہوگا اور اس حوالے سے خواتین کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔فاروق نعمت اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے شدید بارش کے باوجود واک کرکے حیا اور حجاب کے پیغام کو عام کیا،بے مقصدیت اور مادیت کے حالات میں خواتین معاشرے میں اعلی مقصد و نصب العین اور اسلامی شعائر و احکامات کو عام کرنے کا پیغام دینے آئی ہیں۔ مسلم خواتین اللہ کی حدود کا پاس رکھتے ہوئے حیا اور حجاب پر عمل اورفخر محسوس کرتی ہیں۔جماعت اسلامی حلقہ خواتین سے وابستہ بہنیں معاشرے میں خواتین کے مقام و مرتبے اور حقوق و فرائض کی آگاہی کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور آج کی واک کے ذریعے  حجاب کے کلچر کو عام کرنے کے لیے جد وجہد کر رہی ہیں۔ عورت گھر،خاندان اور معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، جس کی حفاظت اس کے سربراہ کی ذمہ داری ہے۔ عورت کو وراثت میں ان کا حصہ دینے کا عمل دین اسلام نے عطا کیا ہے۔ اسلام ہی واحدمذہب ہے جس نے عورت کو سب سے زیادہ حقوق ادا کیے ہیں۔ خواتین پردہ اور حجاب میں رہ کر معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اسلام نے خواتین کو پردے اور حجاب کا حکم دیا ہے تو مردوں کو اپنی نگاہوں کی حفاظت کا بھی حکم دیا ہے۔ان احکامات پر عمل کر کے ہی معاشرے میں بہتر طریقے سے زندگی گزاری جا سکتی ہے۔