پاکستان پر رائے کی جنگ مسلط کی جارہی ہے،  فیک نیوز بڑا چیلنج ہے، حکومت کی بریفنگ

فیک نیوز بڑا چیلنج ہے، قائمہ کمیٹی اطلاعات کو حکومتی بریفنگ
پاکستان پر رائے کی جنگ مسلط کی جارہی ہے،فرغ حبیب
میڈیا بل مطئمن نہ کیا گیا  تو بل کو مسترد کر دیں گے ،سینیٹر فیصل جاوید

اسلام آباد  (ویب ڈیسک)

حکومت کی طرف  سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات میں واضح کیا گیا ہے کہ فیک نیوز بڑا چیلنج ہے،پاکستان پر رائے کی جنگ مسلط کی جارہی ہے،غیر روایتی جنگ لاگو ہوچکی ہے اس امر کا اظہار وزراتی بریفنگ میں کیا گیا ہے۔  اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی صدارت  ہوا۔پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی پروزیرمملکت اطلاعات فرغ حبیب اور سیکٹری انفارمیشن نے کمیٹی کو بریفنگ دی ۔ کمیٹی نے رپورٹ طلب کی ہے کہ  پی ایم ڈی اے کے حوالے سے مطئمن کرنا ہوگا کہ اس بل کو لانے کی ضرورت کیا ہے، چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ  ہمیں اس پر مطئمن نہیں کر پاتے تو ہم اس بل کو مسترد کر دیں گے ۔اس بل میں صحافیوں کے تحفظ کیلئے جو سیکشنز ہیں کیا اس کو الگ سے لاگو نہیں کیا جا سکتا اس اتھارٹی کی ضرورت کیا ہے۔  بل کا ڈرافٹ کب تک سامنے آئے گا۔چئیرمین کمیٹی نے وزیر مملکت برائے انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ سے سوال کیا کہ اتھارٹی بننے سے ہی کیا  صحافیوں کے حقوق کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے  فرخ حبیب نے کہا کہ  صحافیوں کے سامنے بھی اس بل کو ر کھا گیا ہے اور مشاورت کی گئی ہے ۔بل پاس کرنے کے بجائے ہم نے بل پر مشاورت کا سوچا۔صحافی تنظیموں اور پانچ بڑے پریس کلب کے ساتھ بھی اس پر مشاورت کی ہے ۔جب مشاورت کی تو کچھ چیزوں پر اعتراض اٹھایا گیا لیکن اس میں قید نہیں ہے بلکہ جرمانے ہوں گے،جعلی خبر کی روک تھام، صحافیوں کو کنٹریکٹ مہیا نہ  کرنا ان کو تنخواہ کانہ  ملنا ایسی چیزیں ہیں جس پر توجہ دے رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کو 5 کروڑ روپے ادا کئے ہیں اس کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا کے بھی کوئی بقایہ جات نہیں ہیں ۔صحافیوں کی شکایات کے حوالے سے آئی ٹی این ای کے پاس تقریبا ساڑھے دس ہزار درخواستیں موجود ہیں ۔ سیکٹری اطلاعات نے کہا کہ  آئی ٹی این ای کا سالانہ بجٹ تقریبا 5 کروڑ ہے  مارچ 2021 سے جج نہیں ہے ابھی انٹرم جج تعینات کر رہے ہیں۔  سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ جن صحافیوں کا آپ لوگوں کو اتنی فکر ہے ان کیلئے آئی ٹی این ای کے ادارے کیلئے پچھلے 5, 6 ماہ سے جج بھی موجود نہیں۔ وزیر مملکت فرخ حبیب  نے کہا کہ  بل کے حوالے سے بہت سی غط فہمیاں تھیں اس بل کے اندر کوئی جسمانی سزائیں نہیں ہیں ہم نے بل کے اندر کچھ جرمانے متعارف کروائے ہمیں فیک نیوز کے حوالے بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ماضی کی حکومتوں نے توجہ نہیں دی ۔ہم نے گزشتہ دنوں 70 کروڑ روپیہ میڈیا کے بقایا جات ادا کئے ہیں۔  فرخ حبیب نے کہا کہ  پیمرا نے دھڑا دھڑ الیکٹرانک میڈیا کے لائسنس جاری کیے ۔  پاکستان میں 114 سیٹیلائیٹ ٹی وی چینلز ہیں پاکستان میں ایف ایم ریڈیوز 258 ہیں، کمرشل 196، نان کمرشل 62، کیبل ٹی وی آپریٹر  4026، آئی پی ٹی وی 12، جبکہ 6 موبائل ٹی وی ہیںپرنٹ میڈیا میں اے بی سی سرٹیفائیڈ 1672 ہیں ۔ ایڈورٹائیزنگ پالیسی کا ڈرافٹ تیار اور منظوری دے دی گئی ہے  ۔  چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ایڈورٹائیزنگ پالیسی پر کمیٹی کا فیڈ بیک لینا چاہیے تھا ایڈورٹائیزنگ پالیسی ڈرافٹ کو اگلی میٹنگ میں پیش  کیا جائے  ۔وزیرمملکت نے کہا کہ  اتھارٹی کو لانے میں ہماری توجہ بنیادی طور پر چار چیزوں سے ہے ۔ اول ، جعلی خبروں کا روک تھام، دوسری، ریگولیشن  لیکن کوئی قدغن  نہ ہو اور ذمہ داری کا مظاہرہ ہو، تیسری ، میڈیا میں بھرتی کے طریقہ کار (job security) اور تنخواہ کے مسائل حل کرنا اور چوتھا، صحافیوں کی ریسرچ اور ٹریننگ کراناہے ۔ مفصل طریقے سے کمیٹی کو اتھارٹی کے حوالے سے بریف کرنے پر چئیرمین کمیٹی نے فرخ حبیب کا شکریہ ادا کیا اور ان کی بریفنگ کو سراہا  کہ  آپ اچھے مقاصد کی طرف جا رہے ہیں ۔ جمعرات کو اگلی میٹنگ   میں تمام سٹیک ہولڈر اور ممبران کو سنیں گے ۔ بہتر ہوگا کہ میٹنگ میں میڈیا ایکسپرٹ کو بھی مدعو کرکے ان کی رائے معلوم کی جائے ۔ پہلے صحافتی تنظیموں کو بلا کر میٹنگ کرلیں پھر میڈیا ایکسپرٹ کو بھی سن لیں گے ۔  اتھارٹی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی ممبران کو بھی شامل ہونا چاہئے، چئیرمین کمیٹیاس ڈرافٹ یا اتھارٹی سے اتفاق کریں گے تو اس کے بعد اس حوالے سے بات کریں گے ۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ  میڈیا پر جتنی قدغنیں اور پابندیاں آج ہیں ایسی پہلے کبھی نہیں تھی، فرخ حبیب نے کہا کہ  یہ ایسے ہی بیرونی ممالک کا پاکستان میں میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے پروپیگینڈا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ  صحافیوں سے پوچھیں کہ کیا پابندیاں ہیں ان پر،چئیرمین کمیٹی  نے کہا کہ  پاکستان میں میڈیا آج جتنا آزاد
ہے پہلے کبھی نہیں تھا ۔ورکنگ جرنلسٹ کا خیال رکھنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے ۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فریم ورک پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے،قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کو بھی اس حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ہے،فیک نیوز بڑا چیلنج ہے، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کنٹریکٹ پر عملدرآمد مسئلہ ہے، پی ایم ڈی اے پر کوئی آرڈیننس نہیں لارہے، اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو مشاورت نہ کرتے، وار آف اوپینن اور غیر روایتی جنگ لاگو ہوچکی ہے۔ فرخ حبیب نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایم ڈی اے پر تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے انہوں نے بتایاکہ ای یو ڈس انفولیب نے 750 جعلی ویب سائیٹس کو بے نقاب کیا،معروف شخصیات کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ پی ایم ڈی اے سے آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں لگے گا۔  باقی ممالک کی طرح فیس بک، ٹویئٹر،نیٹ فیلکس،یوٹیوب اور او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے دفاتر پاکستان میں قائم ہونے چاہیں،نئی ایڈورٹائزنگ پالیسی میں ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ شامل کی گئی ہے، جو پی آئی ڈی سے رجسٹرڈ ہونگے انھیں سرکاری اشتہارات مل سکیں گے۔  میڈیاکمپلینٹ کونسل میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی درخواست کا21 دنوں میں فیصلہ ہوگا، اس کے خلاف میڈیا ٹربیونل سے رجوع کیا جاسکے گا،یہاں21 دنوں میں فیصلہ ہوگاجو سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتا گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی روایات نہیں تھیں، کسی بھی قانون کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد قائمہ کمیٹی کے پاس جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، اس اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، سینٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے اراکین پی ایم ڈی اے پر اپنی پارٹی قیادت کو جامع بریفنگ دیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ہے۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ایم ڈی اے میں صحافیوں کی تربیت اور تحقیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے ،پی ایم ڈی اے بنانے سے فنانشل بجٹ میں کمی، ریگولیٹری ارادے ایک چھتری تلے آجائیں گے، بنیادی طور پر دو آپشن تھے، میڈیا سے متعلق تمام قوانین میں ترامیم کی جائیں یاایک یہ قانون لایاجائے۔
#/S