پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق خصوصی  ڈوزیئر جاری کر دیا

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق خصوصی  ڈوزیئر جاری کر دیا
سید علی گیلانی کے کفن و دفن سے متعلق امور میں بھی نئی دہلی نے تعصب کا مظاہرہ کیا۔شاہ محمود قریشی
ایک بھارتی  میجر جنرل سمیت ، ایک ہزار 128  افراد مقبوضہ  جموں و کشمیر میں جنگی جرائم  میں ملوث
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری اور معید یوسف کی اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد(ویب  نیوز)پاکستان نے  مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق 131 صفحات پر مشتمل خصوصی  ڈوزیئر جاری کر دیا ہے ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی  نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری اور مشیر قومی سلامتی  معید یوسف کے ہمراہ  اتوار کومشترکہ پریس کانفرنس  میں خصوصی  ڈوزیر  کی تفصیلات جاری کیں ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے معروف کشمیری حریت رہنما کے انتقال کے بعد بھارتی حکومت اور فوج کی انتہائی منفی سوچ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید علی گیلانی کے کفن و دفن سے متعلق امور میں بھی نئی دہلی نے تعصب کا مظاہرہ کیا جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کا دعوی کرنے والے ملک کا چہرہ بے نقاب کریں گے۔ انہوں  نے کہا کہ عالمی برادری کو باور کرانا ہوگا کہ بھارتی  حکام کہتے کیا ہیں اور بھارت کرتا کیا ہے

، مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سروس جزوی طور پر معطل ہے، صحافیوں کو آزادی حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم رپورٹ نہیں ہورہے، ۔شاہ محمود قریشی نے ڈوزیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق ڈویر 131 صفحات پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ کتابچہ کی صورت میں موجود ڈوزیئر کا پہلا حصہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم، مقبوضہ میں متحرک تحریک اور تیسرے حصہ میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا تفصیل سے تذکرہ ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تیار کردہ ڈوزیئر محض قیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس میں بھارتی مظالم کے 113 حوالہ جات ہیں، ان حوالہ جات میں پاکستان کے ریفرنس انتہائی محدود ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے مزید بتایا کہ 26 حوالہ جات انٹرنیشنل میڈیا، 41 بھارتی اور 32 حوالہ جات بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہیں۔، 131 صفحوں پر مشتمل اس ڈوزیر  میں،پاکستان کے صرف 14 حوالے ہیں،یہ انتہائی credible دستاویز ہے ۔ اس میں3232 کیسز جنگی جرائم سے متعلق ہیں۔۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کے 3 ہزار 432 کیسز کا تذکرہ ہے، ایک ہزار 128 ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی جنہوں نے جنگی جرائم  میں ملوث تھے،

اس میں ایک میجر جنرل کا سطح کا افسر بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے جنگی جرائم میں ایک میجر جنرل، 5بریگیڈیئرز، 4 آئی جیز، 7 ڈی آئی جیز، 131 کرنلز، 186 میجرز اور کیپٹنز ہیں اور 118 یونٹس کا بھی تذکرہ  ہے جو انسانی حقوق کے خلاف ورزی میں ملوث رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔جب سے ہندتوا حکومت بھارت میں آئی ہے ان پائمالیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرے کو 769دن گزر چکے، سید علی گیلانی کا یکم ستمبر کو جب انتقال ہوا تو ان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا، ان کی وصیت کو بالائے تاک رکھتے ہوئے انہیں رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا،انہیں کفن اور دفن کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا،ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو جنازے میں شرکت سے محروم رکھا گیا، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی نہیں دی جاتی،انسانیت کو اس انداز میں پامال کرنا انتہائی نامناسب  ہے ۔ اس لیے ہم نے آج یہ ڈوزیر سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے،اس ڈوزیر میں خواتین کی بے حرمتی کا تذکرہ ہے، ایک لاکھ سے زائد ایسی املاک کا ذکر ہے جنہیں جلایا گیا،  انہوں نے کہا کہ   پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے بھارتی  فیک آپریشنز کا تذکرہ بھی  ہے،کشمیریوں کی پرامن جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے کی کوششوں کا ذکر ہے، ، اس ڈوزیئر میں ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گنز کا استعمال، خواتین کی بے حرمتی اور جلائی گئی املاک کا بھی ذکر ہے۔ ڈوزیئر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں پیلٹ گنز کا استعمال، متاثرہ بچوں کی ویڈیوز اور کیمیکل ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے ثبوت بھی شامل ہیں۔ تیار کئے گئے ڈوزئیر میں انسانی حقوق کی 32 تنظیموں کی رپورٹس ہیں،