اسلام آباد  (ویب ڈیسک)

مہلک عالمی وباء کوروناوائرس کے باعث ملک بھر میں مزید67مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی کل تعداد26787تک پہنچ گئی جبکہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے2988نئے کیسز رپورٹ ہوئے ۔ملک میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد90545تک پہنچ گئی ۔ ملک میں کوروناوائرس کے کیسز کے مثبت آنے کی شرح5.62فیصد تک پہنچ گئی ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی)کی جانب سے پیر  کے  روز ملک میں کوروناوائرس کے حوالے سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اب تک کورکوناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 12لاکھ7ہزار504تک پہنچ گئی ۔ اب تک ملک بھر  میں کوروناوائرس کے10 لاکھ90 ہزار176مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔اس وقت ملک میں کوروناوائرس کے تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کی تعداد5066تک پہنچ گئی۔ این سی اوسی کے مطابق پاکستان میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح2.2فیصد جبکہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح90.3فیصد تک پہنچ چکی ہے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے3391مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ صوبہ سندھ ملک بھر میں کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز، فعال کیسز اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کے اعتبار سے ملک بھر میں پہلے نمبر پر آگیا جبکہ صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسری جانب صوبہ پنجاب ملک بھر میں کوروناوائرس سے ہونے والی اموات کے اعتبار سے ملک بھر میں پہلے جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔این سی اوسی کے مطابق  کوروناوائرس کے فعال کیسز کے اعتبار  سے صوبہ خیبرپختونخوا ملک بھر میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد8070تک پہنچ گئی ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد4216تک پہنچ گئی ۔صوبہ پنجاب میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد26287تک پہنچ گئی ،صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد49714تک پہنچ گئی ، صوبہ بلوچستان336،آزاد جموں وکشمیر1620جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد302تک پہنچ گئی ۔ این سی اوسی کے مطابق اب تک صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے3 لاکھ88ہزار497 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں، صوبہ پنجاب3 لاکھ75ہزار878،خیبر پختونخوا155408،اسلام آباد97758،بلوچستان31913،آزاد جموں وکشمیر31038جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد9685تک پہنچ گئی ۔ این سی اوسی کے مطابق اسلام آباد میںکورونا وائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد102863تک پہنچ چکی ہے جبکہ خیبرپختونخوا ایک لاکھ68ہزار748، پنجاب 4 لاکھ14ہزار390، سندھ 4 لاکھ45ہزار369، بلوچستان32591، آزاد کشمیر33379اور گلگت بلتستان میں10168افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات صوبہ  پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں12225افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں7159، خیبر پختونخوا میں5270، اسلام آباد میں889، گلگت بلتستان میں181، بلوچستان میں342اور آزاد جموں و کشمیر میں721فراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔آزاد جموںوکشمیر میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح تین فیصد، اسلام آباد ایک فیصد، گلگت بلتستان دو فیصد، بلوچستان ایک فیصد، خیبر پختونخوا تین فیصد، سندھ دو فیصد اور پنجاب میں تین فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس کے ایک کروڑ85لاکھ21 ہزار728ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں جبکہ گزشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے53158نئے ٹیسٹ کئے گئے۔پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن  کا عمل جاری ہے جبکہ پیر کے روز سے ملک بھرمیں 15سے 18سال کی عمر کے افراد کو بھی کو روناوائرس کی ویکسین لگا نے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ویکسینیشن کے لیے پنجاب میں 189 اور سندھ میں 14 مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 280، بلوچستان میں 44 اور اسلام آباد میں 14 ویکسینیشن سینٹر قائم کیے جا چکے ہیں۔ آزاد کشمیر میں 25 اور گلگت بلتستان میں بھی 16 مراکز کے ذریعے ویکسینیشن کی جا رہی ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔