ججزتقرری کے معاملے پر ہمیشہ بار کونسلز کی رائے  لی گئی،چیف جسٹس آف پاکستان

سمجھ نہیں آتی بار کونسلز کے ججز تقرری میں احتجاج کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں
بار کونسلز اور وکلا ججز تقرری کے معاملے پر آ کر مجھ سے بات چیت کریں،چیف جسٹس گلزار احمد کا  فل کورٹ ریفرنس سے خطاب
ججز تقرری سمیت عدلیہ کے تمام مسائل کے حل کیلئے وفاقی حکومت ہر وقت تیار ہے،اٹارنی جنرل آف پاکستان
#/H
آئٹم نمبر…09
اسلام آباد(صباح نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ  ججزتقرری کے معاملے پر ہمیشہ بار کونسلز کی رائے  لی گئی، بار کونسلز اور وکلا ججز تقرری کے معاملے پر آ کر مجھ سے بات چیت کریں،سمجھ نہیں آتی بار کونسلز کی ججز تقرری میں احتجاج کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کے دوران  انہوں نے کہا کہ گذشتہ عدالتی سال ہر لحاظ سے دنیا بھر سمیت پاکستان کیلئے بھی مشکل سال تھا، کورونا کے باعث مقدمات کو نمٹانے کی راہ میں زیادہ مشکلات کا سامنا رہا پھر بھی عدالتوں کا دروازہ عوام کیلئے کھلا رکھا، کورونا وائرس کے باعث عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں اضافہ ہوا، زیر التوا مقدمات میں اضافہ وکلا کا کورونا کی وجہ سے عدالتوں میں پیش نہ ہونا بھی ہے، گذشتہ عدالتی سال کے آغاز پر 45 ہزار 644 زیر التوا مقدمات تھے،گذشتہ سال میں 20 ہزار 910 نئے مقدمات درج ہوئے جبکہ 12 ہزار 968 مقدمات نمٹائے گئے، نمٹائے جانے والے مقدمات میں 6 ہزار 797 سول پیٹشن، ایک ہزار 916 سول اپیلیں اور 469 نظر ثانی درخواستیں، 2 ہزار 625 کریمنل پٹیشنز، 681 کریمنل اپیلیں ،37 کریمنل نظر ثانی درخواستیں اور 100 اوریجنل کریمنل درخواستیں نمٹائی گئیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے، 23 دسمبر کو نیشنل جوڈیشل کمیٹی نے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی دس سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا، پشاور ہائی کورٹ کو تجویز دی کہ ٹرائبل ایریا کے ضم ہونے کے بعد ججز کی تعداد میں اضافہ کرے، ہائی کورٹس کو عدالتوں کی تزئین و آرائش کیلئے فنڈز فراہم کئے گئے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے مفت قانونی رہنمائی کیلئے ڈسٹرکٹ ایمپاورمنٹ کمیٹی قائم کی گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ججز تقرری کے معاملے پر ہمیشہ بار کونسلز کی رائے ہمیشہ لی گئی ، اس معاملے پر بار کونسلز کے صدور کو متعدد بار دعوت دی لیکن بار کونسلز کے صدور کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ پشاور میں ہیں، سمجھ نہیں آتی بار کونسلز کی ججز تقرری میں احتجاج کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں، بار کونسلز اور وکلا کے لیے اب بھی دروازے کھلے ہیں، بار کونسلز اور وکلا ججز تقرری کے معاملے پر آ کر مجھ سے بات چیت کریں۔نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر سپریم کورٹ کے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹرخالد جاوید خان نے کہا کہ فل کورٹ ریفرنس کا مقصد گذشتہ سال کی کارکردگی اور نئے سال کی منزل کا تعین کرنا ہے، سپریم کورٹ کے نئے سال کے آغاز پر ججز کی تعداد مکمل نہیں ،اعلیٰ عدلیہ میں خاتون جج کی کمی آدھی آبادی کو نمائندگی سے محروم رکھے گی،کورونا کے دوران ایک بھی دن عدالت نے اپنا کام نہیں روکا، سپریم نے گذشتہ عدالتی سال میں متعدد اہم فیصلے دئیے، گذشتہ عدالتی سال کے دو فیصلے اہم رہے، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی وجہ سے بہت سے لوگ بے روزگار ہوئے، سپریم کورٹ کے دوسرے فیصلے نے ظاہر کیا خواتین کی ہراسانی سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کتنی بے بس تھی۔اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ آج سے قبل بینچ اور بار کے درمیان اتنی دوریاں کبھی نہ تھیں، اب وکیل ہڑتال کرتے ہیں اور عدالتوں کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، ہڑتال مزدوروں کا ہتھیار تھا جو ناانصافیوں کے خلاف استعمال ہوتا تھا، اب ہڑتال کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں بھی احتجاج ہوا لیکن ہم نے بردباری کا مظاہرہ کیا، آج سینیارٹی پر ججز کی تعیناتی کا مسئلہ تعلقات میں بگاڑ کی وجہ بن رہاہے، سینیارٹی کی علاوہ ججز کی کارکردگی انہیں دیگر سے نمایاں کرتی ہے،ججز کی تعیناتی میں شفافیت سے پسند اور ناپسند کے عنصر کو ختم کیا جاسکتا ہے، جسٹس وقار سیٹھ اور سندھ ہائیکورٹ بار کی زیر التوا درخواستیں جلد نمٹا کر شکوک وشبہات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس گلزار احمد کا عہدہ سنبھالتے ہی کورونا کی وجہ سے زیر التوا مقدمات میں اضافہ ہوا، سپریم کورٹ سمیت دیگر عدالتوں میں زیر التوا مقدمات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں کمی کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ججز تقرری سمیت عدلیہ کے تمام مسائل کے حل کیلئے وفاقی حکومت ہر وقت تیار ہے۔