مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشت گردی، مزیدچارکشمیری نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی دہشت گردی، مزیدچارکشمیری نوجوان شہید

قابض فوج کا سرحدی ضلع میں سات مجاہدین کو شہیدکرنے کادعوی

ہتھیار برآمد ہونے پر بھارتی فوجی اہلکار سرینگر ائیر پورٹ پر گرفتار

 ریاستی دہشت گردی کے خلاف پلوامہ میں احتجاجی مظاہرہ

کل جماعتی حریت کانفرنس کانظربندحریت رہنماؤں اور کارکنوں کی حالت زار پر غم و غصے کا اظہار

سرینگر(ویب  نیوز) مقبوضہ جموں و کشمیرمیں قابض بھارتی فوجیوںنے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران منگل کو ضلع بارہمولہ میں چار مزیدکشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تاہم قابض فوج  نے سرحدی ضلع میں سات مجاہدین کو شہیدکرنے کادعوی کیا ہے ،ہتھیار برآمد ہونے پر بھارتی فوجی اہلکار سرینگر ائیر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا، ریاستی دہشت گردی کے خلاف پلوامہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،کل جماعتی حریت کانفرنس نے نظربندحریت رہنماؤں اور کارکنوں کی حالت زار پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے ،صباح نیوزکے مطابق بھارتی فوج نے چار نوجوانوں کوضلع بارہ مولا میںاوڑی کے جنگلاتی علاقے گھولف میںتلاشی اور محاصرے کی ایک پر تشدد کارروائی کے دوران شہید کیا۔جنرل آفیسر کمانڈنگ 19ڈویژن اوڑی بریگیڈ وریندرا ویٹس نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ اوڑی میں سات روز سے جاری کارروائی کے دوران سات عسکریت پسندوںکو قتل کیاگیا ہے ۔  بھارتی فوجیوںنے اوڑی کے متعدد علاقوں میں 16ستمبر کو تلاشی اور محاصرے کی یہ کارروائی شروع کی تھی ۔

اس سے قبل چار بھارتی فوجی ایک کارروائی کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ ایک پولیس افسر کے مطابق شہید کئے گئے نوجوانوں کی میتیں بھارتی فوج نے اوڑی پولیس اسٹیشن بجھوائی ہیں ،دریں اثناء سرینگر ایئرپورٹ پر منگل کوایک بھارتی فوجی کو اس کے سامان سے ہتھیار برآمد ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیاہے۔ سرینگر ائیر پورٹ پر بھارتی فوج کی 17راج رائفلز کے حوالدار پون سنگھ کے سامان سے انساس رائفل کی گولی برآمد ہونے پر اسے گرفتار کیاگیا ہے۔بھارتی فوجی اہلکار شمالی کشمیر میںکپواڑہ کے علاقے فرکیان کی پہاڑی چوٹی پر تعینات ہے۔ایک پولیس عہدیدار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ فوجی کو پولیس چوکی ہمہامہ میں حراست میں رکھا گیا ہے اور اس سے مزید تفتیش کی جارہی ہے ۔علاوہ ازیں  ضلع پلوامہ میںپابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھروں سے نکل کر بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔  مظاہرین کاکہنا تھا کہ ضلع کے علاقے ترال میںبھارتی فوجی اورپولیس اہلکار زبردستی ان کے گھروں میں گھس کراہلخانہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور بھارتی فوجیوںکی اس انتقامی کارروائی کا نشانہ بننے والوںمیں ایک شہید نوجوان کے اہلخانہ بھی شامل ہیں۔بھارتی فوج کے محاصرے کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔ متاثرہ خاندانوں نے صحافیوںکو بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ شب گھروں میں گھس کر لوگوںپر وحشیانہ تشدد کیا ، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور توڑ پھوڑ کی ۔ ایک زخمی لڑکی کو ترال کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔مظاہرین نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور امن پسند ممالک سے اپیل کی کہ وہ تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل اور کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کیلئے اپنا اہم کردار دا کریں ۔ادھر بھارتی فوجیوں نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران پلوامہ اور سرینگر سے تین کشمیریوںکو گرفتارکرلیا’ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور کشمیر کی جیلوں میںغیر قانونی طور پر نظربندحریت رہنماؤں اور کارکنوں کی حالت زار پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نظربند حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کو 1948 کے انسانی حقوق کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظربندوںکو بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میںگنجائش سے زیادہ نظربندوںکو رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر صحت مند اور شور شرابے کے ماحول، پانی کی قلت اور غیر مناسب رہائش سے نظربندوںکی مشکلات میں اضافہ ہواہے۔ ترجمان نے نظربندرہنماؤں اور کارکنوں کی بگڑتی ہوئی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکام نے جیلوں میں ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ایک خوفناک ماحول پیدا کیاہے تاکہ نظربندوں کے عزم کو توڑا جائے اور ان کو آہستہ آہستہ موت کی طرف دھکیلا جائے۔انہوں نے کشمیر کی مزاحمتی قیادت کے غیر متزلزل عزم اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے نظربند رہنما اور کارکن ضمیر کے قیدی ہیں کیونکہ جیلیں ان کا دوسرا گھر ہیں۔ وہ بھارت کی فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے نظربندی میںمرنا پسند کرتے ہیں۔ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ ، محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو ، ڈاکٹر حمید فیاض ، آسیہ اندرابی ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ ، فہمیدہ صوفی ، ناہیدہ نسرین ، الطاف احمد شاہ ، ایاز اکبر ، پیر سیف اللہ ، راجہ معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان ، فاروق احمد ڈار ، شاہد الاسلام ، ظہور وٹالی ، شاہد یوسف ، شکیل یوسف ، مظفر احمد ڈار ، مقصود احمد بٹ ، نذیر احمد شیخ، ایم ایوب ڈار ، ایم ایوب میر اور دیگر تمام حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ترجمان نے کہا کہ ہمارے نظربندوں نے بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی کے مقدس مقصد کے لیے انمول قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ ضمیر کے ان قیدیوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کا سخت نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں مدد دیں۔