جنوبی پنجاب میں زیتون کی کاشت پر توجہ دی جائے،ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان زرعی تاریخ کا انقلابی پروگرام ہے:عثمان بزدار

لاہور (ویب ڈیسک)

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیر صدارت اعلیٰ سطح کااجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ زراعت اور محکمہ لائیوسٹاک کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں اوردیگر محکمانہ اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے اجراء کے لئے فرد ملکیت کی فیس نہ لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ پنجاب میں کاشتکاروں کو ڈیجیٹل سبسڈی کے لئے 4لاکھ 72ہزار کسان کارڈجاری ہوچکے ہیں اور رواں مالی سال کے آخرتک10لاکھ کاشتکاروں کو کسان کارڈ کااجراء مکمل ہوجائے گا۔ صوبہ بھر میں کسان کارڈ کے 1590ان پٹ ڈیلر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پروگرام کے تحت گندم گنا او رچاول کی زیادہ پیداوار کے حصول کے پراجیکٹ جاری ہیں۔ ڈرپ ایریگیشن ،سولرائزیشن کے پراجیکٹ کا دائرہ کار بتدریج بڑھایاجارہاہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان پنجاب کی زرعی تاریخ کا انقلابی پروگرام ہے۔ جنوبی پنجاب میں زیتون کی کاشت پر توجہ دی جائے۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ محکمہ زراعت کے ریسرچرزنے گندم کی 31نئی اقسام متعارف کرائی ہیں۔ گندم کی نئی اقسام میں پانی کی کمی اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پنجاب میں کھجور کی نئی ورائٹی بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ پنجاب میں مکئی ،گندم اور چاول کی اہداف سے زیادہ پیداوار حاصل کی گئی ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ زراعت توسیع کی ری سٹرکچرنگ او رآئوٹ سورسنگ کی جائے گی۔ چاول ،گندم،گنا اور مکئی پر ریسرچ کے لئے سنٹرل آف ایکسیلینس قائم کئے جائیں گے۔ اجلاس میں وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی، وزیر لا ئیوسٹاک حسنین بہادر دریشک، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ ، سیکرٹری فنانس ، سیکرٹری ایگریکلچراور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی.

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔