کالعدم ٹی ایل پی فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے سے دستبردار

 حکومت تحریک لبیک پاکستان کوکالعدم قرار دینے کے اپنے فیصلے کو واپس لے گی

کالعدم تنظیم آئندہ کسی لانگ مارچ یا دھرنے سے گریز کرے گی،بطور سیاسی جماعت قومی دھارے میں شریک ہوگی

حکومت کالعدم تنظیم کے گرفتار کارکنوں کو رہا کردے گی، دہشت گردی سمیت سنگین مقدمات کا سامنا کرنے والے کارکنوں کوعدالت سے ریلیف لینا ہوگا

دھرنے کے شرکاء کیخلاف حکومت کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کریگی،سعد رضوی کو ایک ہفتہ میں عدالتی عمل مکمل ہونے کے بعد رہا کردیا جائے گا معاہدے کا متن

اسلام آباد(ویب  نیوز) حکومت اورکالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق کالعدم تنظیم فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے سے دستبردار ہوگئی ہے۔ کالعدم تنظیم آئندہ کسی لانگ مارچ یا دھرنے سے گریز کرے گی۔ کالعدم تنظیم آئندہ بطور سیاسی جماعت قومی دھارے میں شریک ہوگی ۔ حکومت کالعدم تنظیم کے گرفتار کارکنوں کو رہا کردے گی۔ دہشت گردی سمیت سنگین مقدمات کا سامنا کرنے والے کارکنوں کوعدالت سے ریلیف لینا ہوگا۔ دھرنے کے شرکاء کے خلاف حکومت کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرے گی ۔ کالعدم تنظیم کی جانب سے مفتی منیب الرحمان نے بطور ضامن معاہدے کیلئے کردارادا کیا۔ حکومت تحریک لبیک پاکستان کوکالعدم قرار دینے کے اپنے فیصلے کو واپس لے گی۔ معاہدے کی روح سے سعد رضوی کو ایک ہفتہ میں عدالتی عمل مکمل ہونے کے بعد رہا کردیا جائے گا۔ شوریٰ کے ان گرفتار اراکین کو فوراً رہا کردیا جائے جن پر عدالتی عمل درکار نہیں جبکہ باقیوں کو عدالتی عمل کے ذریعے رہا کیا جائے گا۔ دس پندرہ دن کے اندر اندر ضروری کارروائی کے بعد تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔ دھرنے کے شرکاء ایک سے دو روز میں واپس اپنے گھروں کو جائیں گے۔

حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے اور اس حوالہ سے معاہدہ بھی طے پاگیا۔ اس بات کا اعلان سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے۔ کیا۔ مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے یا 10روز میں اس معاہدے کے مثبت نتائج سامنے آجائیں گے۔ معاہدے کے فریقین نے حکمت وتدبر کے ساتھ ملک و ملت کے بہترین مفاد میں یہ معاہد ہ کیا اور اور کسی ناخوشگوار صورتحال کے پیش آنے سے پہلے معاہدہ طے پا گیا۔ یہ پورے ملک کے لئے خیروفلاح کی خبر ہے اور قومی میڈیا کو اسے مثبت انداز میں پیش کرنا چاہئے اور ملک میں امن ، سلامتی اور عافیت کے لئے جو مخلصانہ جدوجہد کی گئی ہے اس میں میڈیا کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ تنائو کی فضاء میں جذبات کوقابو میں رکھنا اور جوچ پر ہوش کا غالب آنا نہایت خوش آئند ہے۔ اس معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے آجائیں گی، تاہم انگریزی زبان کا مقولہ ہے کہ actions speak louder than the words،اس لئے لوگ عملی نتائج دیکھیں گے۔ ہم نے ملک کی عافیت وسلامتی اور امن کے مفاد میں مصالحت کارکا فرض ادا کیا۔معاہدے کے نتیجہ میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے جو اس معاہدہ کی نگرانی کرے گی، علی محمد خان اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت اور سیکرٹری داخلہ حکومت پاکستان اور ہوم سیکرٹری پنجاب اس کمیٹی کے رکن ہوں گے،کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے مفتی غلام غوث بغدادی اور انجینئر حفیظ اللہ علوی اس کمیٹی کے رکن ہوں گے اور یہ کمیٹی آج ہی سے فعال ہو جائے گی۔مفتی منیب الرحمان نے کہاکہ میں اہلسنت ولجماعت کے ملک بھر میں اور بیرون ملک لوگ جو رابطے میں ہیں اوراس حوالہ سے متفکر تھے میں ان سب کو یقین دلاتا ہوں ا ور تمام مسلمانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس سے خیر برآمد ہو گی۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی صفوں میں جنہوں نے معقولیت کا مظاہرہ کیا اور جنہوں نے طاقت کے استعمال سے احتراز کرنے کا مشورہ دیااورحزب اختلاف میں جنوں نے یاحکومت کے اتحادیوں میں جنہوں نے طاقت کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیامیں تہہ دل سے ان سب کا شکریہ اداکرتاہوں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہم نے دانشمندی سے مسئلہ حل کرنے کوترجیح دی، امن اور بہتری کا راستہ تلاش کیا گیا،ملک کو ایک امتحان سے بچایا ہے۔ قوم اضطراب میں مبتلا تھی۔ سڑکیں کاروبار بند ،معیشت ٹھپ تھی ،معصوم جانوں کا ضیاع دیکھا، لوگوں کو زخمی ہوتے اور املاک کو نقصان پہنچتے دیکھا، معاملہ طوالت اختیار کرتا تو بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ انتشار میں پاکستان کا فائدہ نہیں ، ملک کو عدم استحکام کرنے والی طاقتیں یقینی طور پر متفرق ہوں گی۔ ZS

#/S