کبھی نہیں کہا پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنادیں گے،عمران خان

 ہم نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے جو پاکستان کی قرارداد مقاصد میں شامل ہے

ہم نے ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس دینی ہے، کامیاب جوان پروگرام کے تحت مائیکرو ہیلتھ انشورنس پروگرام کے اجرء کی تقریب سے خطاب

پشاور (ویب  نیوز)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی نہیں کہاکہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنادیں گے ، ہمارا مقصد پاکستان کو فلاحی ریاست بناناہے ۔ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے گورنر ہائوس پشاور میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت مائیکرو ہیلتھ انشورنس پروگرام کے اجرء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب میں نے25سال پہلے پارٹی شروع کی توتب جو ہمارا منشورتھا اس میں بڑا واضح تھا کہ ہم نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے جو پاکستان کی قرارداد مقاصد میں شامل ہے۔ جب بھی مسلمان اسلامی فلاحی ریاست کی بات کرتا ہے تو وہ مدینہ کی ریاست ہوتی ہے، یہ ہماری25سال سے جدوجہد تھی اور میری یہ کوشش تھی کہ جب بھی اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تومیں بجائے یہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنادیں گے یا لاہور کو پیرس بنادیں گے ،

 

ہمارا ہمیشہ ایک ہی قبلہ تھا کہ ہم نے پاکستان کو اس طرف لے کر جانا ہے جس وجہ سے یہ ملک بنا تھا،جب ہمیں خیبرپختونخوا کی حکومت ملی تو وہ ایک اتحادی حکومت تھی، طاقتور حکومت نہیں تھی، سب نے مجھے شروع میں کہا ہے کہ آپ یہ حکومت نہ لیں کیونکہ اتحادی حکومت کو چلانا بڑا مشکل ہے، میں اس وقت زخمی تھا اور بڑے لوگوںنے مجھے کہا کہ آپ کے لئے حکومت چلانا بڑا مشکل ہوگا اورپختونخوا کے لوگ ایک ہی باری دیتے ہیں اور ایک باری کے بعد آپ کی ساری جدوجہد ختم ہوجائے گی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری پختونخوا کی جو اتحادی حکومت تھی تو جب2018کا الیکشن آیا تو ساری دنیا کو تعجب ہوا کہ جو ایک اتحادی حکومت تھی وہ دوتہائی اکثریت لے کر آگئی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری کے پی میں حکومت آئی تو میں نے بڑا سنا کہ کدھر ہے نیا پختونخوا ، ہر وقت ہمیں طعنے دیئے گئے لیکن ووٹر نے آخر میں فیصلہ کیوں کیا، یہاں کے لوگ زیادہ شعوررکھتے ہیں اور جمہوریت کا زیادہ ذہن ہے پختونخوا کی طرف، کیونکہ آپ کا سوشل سسٹم ایسا ہے، جرگہ سسٹم ہے اور لوگوں کی سوچ جمہوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یواین ڈی پی کی رپورٹ ہے کہ 2013سے2018تک جس صوبے میں سب سے زیادہ تیزی سے غربت کم ہوئی وہ پختونخوا تھا، اس لئے لوگوں نے ووٹ دیئے۔ پہلی دفعہ لوگوں کو ہیلتھ انشورنس کے پی میں ملی۔ جب2018میں ہماری خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت آئی تو وزیر اعلیٰ محمود خان نے فیصلہ کیا کہ ہم نے ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس دینی ہے جس پر میں محمود خان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، اسی وجہ سے میں پنجاب حکومت کو بھی کہا کہ وہ سارے لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دے۔ پنجاب میں یکم جنوری سے ہیلتھ کارڈ کی تقسیم شروع ہورہی ہے اور تین ماہ میں سارے پنجاب کے لوگوں کو ہیلتھ انشورنس ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس کی نعمت سفید پوش کے لئے بھی بڑی نعمت ہے، لیکن غیریبوں کے لئے یہ ایسی چیز ہے کہ وہ ہمیشہ آپ کو دعائیں دے گا اور یہ یاد رکھیں کہ غریب کی دعا اللہ تعالیٰ زیادہ سنتا ہے، دعائیں ہی اس کی سنتا ہے۔ اب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے بھی یہ فیصلہ کر لیا ہے ، گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر میں بھی جدھر جدھر ہماری حکومت ہے وہاں سارے گھرانوں کو ایک ہیلتھ کارڈ دیں گے اور10لاکھ روپے تک کسی بھی ہسپتال میں جاکر اپنا علاج کرواسکیں گے۔ دنیا کے امیر ترین ملکوں کے اندر بھی یونیورسل ہیلتھ کوریج نہیں ہے، جو ہم کرنے جارہے ہیں انشاء اللہ دنیا میں پاکستان کی مثال دی جائے گی۔ یہ پہلی چیز ہے جو ہمیں اسلامی فلاحی ریاست کے راستے کی طرف لے کر جارہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ پھر مہنگائی آگئی، پہلے کوروناآیا اور میرے اوپر لوگوں نے بڑازورلگایا کہ ساری دنیا کی طرح لاکھ ڈائون کردو، سب کچھ بند کردو، بھارت کی مثال دی جارہی تھی کہ نریندر مودی نے بند کردیا تو میں بھی بند کردوں تاکہ کورونانہ پھیلے،مجھے بڑا برابھلا بھی کہا گیا اور تین مہینے میں نے بڑی چیزیں سنیں کہ اس پر پتا نہیں ہے، کسی نے کہا کہ جو بھی کورونا سے مرتا ہے اس کی ایف آئی آر اس کے اوپر ایف کاٹ دو کیوں کہ یہ لاک ڈائون نہیں کررہا، آج دنیا کہہ رہی ہے کہ جس ملک نے سب سے بہتر طریقہ سے کورونا کی وباء سے اپنے ملک کو نکالا ہے وہ پاکستان ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اکنامسٹ میگزین نے لکھا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے اپنے ملک کو کورونا سے بھی بچا لیا اوراپنی معیشت کو بھی بچا لیا، ہم وہاں سے نکلے ، بھارت میں غربت آئی وہاں ابھی بھی براحال ہے اور لاک ڈائون کی وجہ سے ان کی معیشت ابھی بھی ریکور نہیں کررہی۔ کورونا کا دنیا کے اندر ایسا مسئلہ بنا کہ جس سے پاکستان بھی نہ بچ  سکا، وہ کیا ہے کہ جیسے ہی لاک ڈائون ہوئے کاروبار بند ہو گئے، سفر بند ہو گئے، ایئرپورٹس بند ہو گئے، اس سے سپلائی چین بند ہو گئی، جب سپلائی چین بند ہوئی تو چیزوں کی کمی ہو گئی اور چیزیں مہنگی ہو گئیں ، اس کا  ہمارے اوپر بھی اثر پڑنا تھا، تین ، چار ماہ میں تیل کی قیمت دوگنا ہو گئی، کوئلہ دوگنا ہو گیا اور گیس دوگنا سے بھی زیادہ مہنگی ہو گئی، بلکہ تین گنا بڑھ گئی اور یہ ساری چیزیں ہم امپورٹ کرتے ہیں۔ پاکستان70،75فیصد گھی باہر سے امپورٹ کرتا ہے، وہ دوگنا سے بھی زیادہ ہو گیا، اب اس کا حکومت کیا کرتی۔ جتنی چیزیں پاکستان میں تھیں ہم نے پورا زورلگاکر ہم نے ان کی قیمتیں نیچے رکھیں، میں ابھی بھی کہوں گا کہ پاکستان دنیا میں سب سے سستا ملک ہے۔ لیکن باہر سے جو چیزیں ہم امپورٹ کررہے تھے ان کا کیا کرتے۔