بہاولپور ( ویب نیوز )

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مدینہ کی ریاست کے سنہری اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے موجودہ حکومت قانون کی بالادستی کی حامل فلاحی ریاست کے قیام کیلئے کوشاں ہے، اس ضمن میں معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے قومی صحت کارڈ اور احساس پروگرام انقلابی اقدامات ہیں، قومی صحت کارڈ کا اجرا فلاحی ریاست کی جانب ایک اہم قدم ہے جس سے صحت کے پورے نظام میں انقلاب آئے گا، یہ سہولت دنیا کی ترقی یافتہ ممالک میں بھی حاصل نہیں، ملک میں کرپشن کے خاتمہ، قانون کی بالادستی اور فلاحی ریاست کے قیام کیلئے پوری قوم کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا، طاقتور اور کمزور کیلئے الگ الگ قانون کے حامل ممالک وسائل کے باوجود غریب ترین ہیں، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام موجودہ حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب کے عوام سے کیے گئے وعدے کی تکمیل ہے۔

وہ منگل کو بہاولپور ڈویژن میں نیا پاکستان قومی صحت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر بہاولپور ڈویژن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں صحت کارڈ تقسیم کرکے پروگرام کا باقاعدہ اجرا کیا۔

قومی صحت کارڈ کا اجراء خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، ضلع تھر پارکر، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں کیا جا چکا ہے۔ بہاولپور ڈویژن میں شامل اضلاع رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر کے ایک کروڑ 5 لاکھ سے زائد افراد کی شمولیت کے بعد پنجاب میں قومی صحت کارڈ سے مستفید ہونے والے اہل گھرانوں اور افراد کی تعداد میں 63 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 18 سال کی عمر میں برطانیہ میں ایک فلاحی ریاست کو دیکھا، قرارداد مقاصد میں پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست قرار دیا گیا تاہم ہم یہاں اسلامی فلاحی ریاست نہ دیکھ سکے، برطانیہ میں ضرور فلاحی ریاست دیکھی جہاں ہسپتالوں میں انسانیت دیکھی، وہاں سرکاری ہسپتالوں میں پیسے دے کر اور مفت علاج کرانے والوں میں ڈاکٹر اور عملہ کوئی فرق روا نہیں رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ نبیۖﷺ تمام انسانوں کیلئے رحمت بن کر آئے، ان کی سنت پر جو بھی چلے گا وہاں برکت آئے گی، برطانیہ، ناروے سمیت دیگر ممالک فلاحی ریاستیں ہیں، مسلم دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو حقیقی فلاحی ریاست ہو۔

 وزیراعظم نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبہ میں زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے، صحت کے شعبہ میں سرکاری ہسپتال بنائے جائیں، وہاں ڈاکٹر طبی عملہ دیا جائے، مفت ادویات دی جائیں، اس کیلئے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے، برطانیہ کا صحت کا بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں پہلے دور حکومت میں صحت کارڈ کا تجربہ کیا، پاکستان میں پہلے کبھی ایسا نہیں سوچا گیا تھا اس لیے ہمیں اس منصوبہ کی کامیابی کا خوف تھا تاہم اس منصوبہ کی کامیابی کے بعد ہم نے ملک بھر میں قومی صحت کارڈ کا بڑا قدم اٹھایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں یونیورسل ہیلتھ کوریج نہیں، ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ہیلتھ انشورنس کے پیسے دیتے ہیں، ہم پورے پاکستان کو مفت یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں اور جہاں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں قومی صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہر جگہ سرکاری ہسپتال قائم کرنے کیلئے ہمارے پاس وسائل نہیں جبکہ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے بھی مالی مشکلات سے ان کو چلانا مشکل ہے، قومی صحت کارڈ سے دیہی علاقوں میں بھی نجی شعبہ میں ہسپتال بنیں گے، چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر جانے سے گریزاں ہوتے ہیں، ایسے علاقوں میں ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے، اب گاؤں کی سطح پر بھی ہسپتال بنیں گے، یہاں کے لوگوں کے پاس بھی علاج کیلئے صحت کارڈ کی صورت میں پیسے میسر ہوں گے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ اس مقابلہ کا فضا سے اب سرکاری ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ ہوگی، اس سے سارے صحت کے شعبہ میں انقلاب آئے گا، ملکی تاریخ میں پہلی بار پنجاب حکومت صحت کارڈ پر 400 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں ہمارے حکمرانوں کو کھانسی بھی ہوتی تھی تو پورا ٹبر علاج کیلئے بیرون ملک چلا جاتا تھا، ان کو لوگوں کی مشکلات کا اندازہ نہیں تھا، میں نے اپنی والدہ کی تکلیف دیکھ کر شوکت خانم ہسپتال بنایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ جس بچے کے علاج کیلئے والدین کے پاس پیسے نہ ہوں اس کا کرب اس کے والدین سے پوچھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 100 سالہ تاریخ میں کوویڈ جیسا بحران نہیں آیا جب ساری دنیا مہنگائی کا شکار ہے، بڑی بڑی معیشتیں متاثر ہیں، ایسے میں ہم محدود مالیاتی وسائل کے باوجود قومی صحت کارڈ کا اجرا کر رہے ہیں، دنیا کی اکانومی کے حوالے سے مستند میگزین اکانومسٹ نے تین سال میں کوویڈ کے دوران پاکستان کی پالیسیوں کو دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شمار کیا ہے، بلوم برگ نے دس سال کیلئے پاکستان کی پائیدار معیشت کا تجزیہ کیا ہے، ورلڈ بینک نے معاشی نمو 5.37 فیصد ہونے کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنقید جمہوریت کا حسن ہوتی ہے، صحافی اور تجزیہ نگار تنقید ضرور کریں لیکن اس میں توازن رکھیں، بعض عناصر کی طرف سے نااہل قرار دی جانے والی حکومت دنیا کی معیشتوں میں تیسری پوزیشن پر کیسے آ گئی؟ مسلم لیگ ن اپنے آخری سال ریکارڈ خسارہ چھوڑ کر اور قرضے لے کر معاشی نمو 5 فیصد تک پہنچا سکی، ہم نے خسارہ کم تر رکھ کر یہ ہدف حاصل کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا پاکستان کے قائدانہ کردار کی معترف ہے، برطانیہ کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کردار کو سراہا، اس کے علاوہ احساس پروگرام کو بھی دنیا سراہ رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکمرانوں کے نام بھی دنیا کے بڑے میگزینوں میں آئے ہیں تاہم ان کی وجہ شہرت کرپشن اور چوری تھی، بی بی سی نے ان کی کرپشن پر دو ڈاکومنٹریز جاری کیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اب ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جائے گا کہ شہباز شریف کے بیٹے کی شوگر مل کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 4 ارب روپے کیسے آ گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ملک تمام تر وسائل کے باوجود ترقی کیوں نہیں کر سکا، اس کی وجہ اقتدار پر ڈاکوؤں کا براجمان ہونا ہے، اگر آپ کسی فیکٹری میں بھی ڈاکو بٹھا دیں تو وہ تباہ ہو جاتی ہے، جن ممالک میں غربت زیادہ ہے وہاں اسی طرح ڈاکو اقتدار پر قابض ہیں، قومیں وسائل کی کمی کی وجہ سے غریب نہیں ہوتیں، سوئٹزرلینڈ وسائل نہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ خوشحال ملک ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وہاں قانون کی بالادستی ہے، وہاں کوئی چوری ڈکیتی نہیں اور نہ ہی کوئی قبضہ گروپ ہے، وہاں ادارے مضبوط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہماری جدوجہد قانون کی بالادستی اور فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہے، مدینہ کی ریاست نے انہی دو اصولوں پر کاربند رہ کر دنیا کی امامت کی، پاکستان کو بھی انہی اصولوں پر کھڑے ہونا چاہیے، ہم اس راستے پر چل پڑے ہیں، قومی صحت کارڈ، احساس پروگرام اس سمت اہم قدم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ڈاکوؤں کے ٹولے سے ہے، یہ چوری کریں تو انہیں این آر او مل جاتا ہے، پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں جبکہ معمولی جرائم پر لوگ جیلوں میں پڑے رہتے ہیں، ایسی صورتحال ملکوں کی تباہی کا باعث ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسے بدعنوان عناصر کے خلاف پوری قوم مل کر لڑتی ہے، کوئی تنہا ان کے خلاف نبردآزما نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس ملک کا سابق وزیراعظم اربوں روپے کی بیرون ملک جائیداد کا جواب دینے کی بجائے اپنے بچوں سے پوچھنے کی بات کرتا ہے جبکہ اس کے بچوں کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں، انہوں نے لندن کی مہنگی ترین جگہ پر قیتمی جائیدادیں بنائی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا وعدہ ہم نے کیا تھا اور اپنی حکومت کے دور میں یہ وعدہ پورا کریں گے، جنوبی پنجاب کے لوگوں سے ماضی میں ناانصافی ہوئی، انہیں نوکریوں میں جائز حصہ نہیں ملا، جنوبی پنجاب کو جتنا بجٹ ملنا چاہیے تھا وہ نہیں ملا، اب یہ ناانصافی ختم ہوگی، وہ آئندہ بہاولپور میں سیکرٹریٹ کے افتتاح کیلئے آئیں گے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ مارچ کے آخر تک کروڑوں افراد کو قومی صحت کارڈ کی سہولت میسر آئے گی، یہ ریاست مدینہ کی طرف اہم قدم ہے اور تحریک انصاف کے منشور کا اہم حصہ ہے، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر سمیت مختلف اضلاع میں نئے ہسپتال بھی بنا رہے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں 23 نئے ہسپتال بنانے کا منصوبہ شروع کر رہے ہیں، 158 طبی مراکز کو اپ گریڈ کر رہے ہیں، گزشتہ حکومتوں نے جتنا بجٹ جنوبی پنجاب کو دیا اتنا ہم نے اپنے دور حکومت میں چھ ماہ میں خرچ کر دیا۔یاد رہے کہ قومی صحت کارڈ حکومت کی طرف سے ایک انقلابی اقدام ہے جس کی بدولت 10 لاکھ روپے تک علاج سرکاری و منتخب پرائیویٹ ہسپتالوں میں مفت علاج معالجے کی سہولت میسر ہوگی۔