برآمدی شعبوں کی مشکلات کے حل کیلئے با اختیار فوکل پرسنزتعینات کئے جائیں‘ کارپٹ ایسوسی ایشن
فریٹ چارجز میں سبسڈی،برآمدات کیلئے آنے والے خام مال پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں کمی کی جائے

لاہور ( ویب نیوز )

پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر زایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر درپیش چیلنجز کینسر کے موذی مرض کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس کیلئے سرجری کی ضرورت ہے،حکومت کسی تفریق کے بغیر برآمدات میں اضافے کیلئے متفقہ قومی پالیسی بنائے کیونکہ موجودہ حالات میں ہمارے پاس معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے کوئی اورراستہ موجود نہیں،برآمدی شعبوں کو درپیش مشکلات کو فوری حل اور رابطوں کے لئے با اختیار فوکل پرسنزتعینات کئے جائیں۔ ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک، کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف،ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اعجاز الرحمان،سینئر ایگزیکٹو ممبر ریاض احمد، سعید خان،محمد اکبر ملک،عثمان اشرف،دانیال حنیف نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہپاکستان جن مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے ایسے میں برآمدات کے حجم میں اضافہ اور استحکام نا گزیرہے۔ ہمیں ہر سال برآمدات میں اضافہ کرنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب تمام اسٹیک ہولڈرزایک پیج پر ہوں گے۔عالمی مارکیٹوں میں سخت مقابلے کارجحان ہے ایسے میں مصنوعات کے معیار کو کم کر کے ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتے،اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت فریٹ چارجز میں سبسڈی اوربرآمدات کیلئے آنے والے خام مال پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں کمی کی جائے۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کیلئے افغانستان سے جزوی تیار خام مال درآمدکیا جاتا ہے تاہم ہمیں اس حوالے سے کئی طرح کی مشکلات کا سامناہے،اگر حکومت ٹیکسز اورمشکلات کے حوالے سے اقدامات کرے تو ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات کو دو گنا کر کے ملک کیلئے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتاہے

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔