یہ نہیں ہو سکتا ہمارے کچھ جنرلز اور ججز بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کر دیں کہ آج سے ہماری پالیسی یہ ہو گی اور اگلے دن ہم بدل جائیں

مقتدر حلقے فیصلے کریں کہ انہوں نے ملک کو سری لنکا بنانا ہے یا اسے آگے بڑھانا ہے ،پاکستان کے عوام کو حق کو فیصلوں کا حق دینا ہو گا

ہمیں پتہ ہے کورٹ میں بریک سے پہلے کیا ہو رہا تھا اور بریک کے بعد کیا ہوا، آپ سائفر کی تحقیقات کیوں نہیں کر رہے؟

سائفر کی تحقیقات نہیں کی تو نئی حکومت آکر ضرور کرے گی،آرٹیکل 6 کے کیس اگر چلنے شروع ہوئے تو گلے زیادہ اور رسے کم پڑیں گے

عام انتخابات کی طرف جانا ہوگا، اس کے سوا کوئی اور حل نہیں، جو مرضی کر لیں ضمنی انتخابات میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے

سپریم کورٹ کے فیصلوں کی تاریخ شاندار نہیں رہی، فیصلہ غلطیوں سے عبارت ، فیصلوں پر رائے دینا حق ہے، اس کو کتنی پذیرائی ملے گی بعد میں پتہ چلے گا ،پریس کانفرنس

لاہور (ویب نیوز)

سابق وزیرِ اطلاعات و نشریات اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر تفصیلی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے منہ کو خون لگا ہوا ہے کہ انھوں نے سیاسی فیصلے کرنے ہیں، جب دل چاہتا ہے ججز نوٹس لیتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کورٹ میں بریک سے پہلے کیا ہو رہا تھا اور بریک کے بعد کیا ہوا، آپ سائفر کی تحقیقات کیوں نہیں کر رہے؟، سائفر کی تحقیقات نہیں کی تو نئی حکومت آکر ضرور کرے گی،آرٹیکل 6 کے کیس اگر چلنے شروع ہوئے تو گلے زیادہ اور رسے کم پڑیں گے ،مقتدر حلقے فیصلے کریں کہ انہوں نے ملک کو سری لنکا بنانا ہے یا اسے آگے بڑھانا ہے ۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے ججوں اور  اسٹیبلشمنٹ پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے منھ کو لہو لگا ہوا ہے کہ سیاسی فیصلے کرنے ہیں، اب یہ بدلنا ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ اسٹیبشلمنٹ ایک دن ایک فیصلہ کرے اور اگلے دن دوسرا۔ یہ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ ہے جو بدل جائے گی، پاکستان کے عوام کو حق کو فیصلوں کا حق دینا ہو گا۔فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے کچھ جنرلز اور ججز بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کر دیں کہ آج سے ہماری پالیسی یہ ہو گی اور اگلے دن ہم بدل جائیں۔ایک ہم فیصلہ کر لیں کہ آٹھ سال ہم نے افغانستان میں لڑائی لڑنی ہے وہاں پر ہم ہزاروں لوگ شہید کروا لیں اگلے دن ہم بدل جائیں کہ نہیں وہ ہماری پالیسی غلط تھی آج سے ہم دوسری طرف ہو گئے ہیں ہم پھر اپنے ہزاروں بندے مروا لیں۔ پاکستان میں جس طرح سے پالیسیاں بن رہی ہیں یہ تو مذاق ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی فیصلے سیاسی میدان میں ہی ہونے چاہئیں۔ ججوں اور جنرلز نے ایک کریئر چنا ہے اور اس کے وقار کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں یہ نہیں ہو سکتا کہ کرنی ہم نے ججی ہے، ہم نے فوج میں کمیشن لیا ہو لیکن کرنی ہم نے سیاست ہے۔انھوں نے فیصلے میں سائفر سے متعلق تذکرے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارٹی جنرل خالد جاوید، اس کے بعد علی ظفر اور پھر امتیاز صدیقی کی جانب سے بار بار سائفر پر زور دیا جا رہا تھا لیکن ججوں کی جانب سے کہا گیا کہ نہیں سائفر کے بارے میں تفصیل سے بات نہ کریں۔ایک طرف آپ تحقیقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ تحقیقات نہیں کی گئیں اور بات نہیں ہوئی۔ بہت لوگوں کو پتا ہے کہ آپ سائفر کی تحقیقات کیوں نہیں کرنا چاہ رہے۔فواد چودھری نے کہا کہ صدر نے سائفر کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کو خط لکھا، شاید گفتگو سے پرہیز کرنے کے لیے سائفر کی تحقیقات نہیں کرنا چاہ رہے، اگر انہوں نے سائفر کی تحقیقات نہیں کی تو نئی حکومت آکر ضرور کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جان بولٹن نے کل اعتراف کیا ہے کہ امریکہ دنیا میں اقتدار کی تبدیلیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن ہماری سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ نہیں نہیں اس میں نہ جائیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ سندھ ہائوس میں جب خرید و فروخت ہو رہی تھی اس وقت ججوں کو نوٹس لینا چاہیے تھا، سپریم کورٹ نے کئی زبردست فیصلے دیئے لیکن یہ فیصلہ متضاد ہے، آرٹیکل 6 کے کیس اگر چلنے شروع ہوئے تو گلے زیادہ اور رسے کم پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کی طرف جانا ہوگا، اس کے سوا کوئی اور حل نہیں، جو مرضی کر لیں ضمنی انتخابات میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے، دو تہائی اکثریت سے اسمبلی میں آئیں گے اور اس فیصلے کو ختم کرائیں گے۔پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی تاریخ شاندار نہیں رہی، فیصلہ غلطیوں سے عبارت ہے، فیصلوں پر رائے دینا حق ہے، اس کو کتنی پذیرائی ملے گی بعد میں پتہ چلے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ سائفر کی انویسٹی گیشن ہوئی تو اس پر بحث ہوگی، بہت سے لوگ سائفر کی انویسٹی گیشن نہیں کرانا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ عقل مندوں کو معلوم ہے کہ سائفر کی تفتیش آخر کیوں نہیں ہو رہی، سائفر کی تحقیقات ہونی چاہیے، جس کے تحت منتخب وزیرِ اعظم کو ہٹایا گیا۔فواد چوہدری نے مطالبہ کیا کہ سائفر چیف جسٹس کے پاس موجود ہے، انکوائری کرائی جائے، حکومت فراڈیوں پر مشتمل ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی لوگوں کو بے وقوف سمجھتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست کے فیصلے سیاسی میدان میں ہونے چاہئیں، پاکستان میں بننے والی پالیساں مذاق بن گئی ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت اسمبلی مقبوضہ ہے کوئی اسمبلی نہیں، اس اسمبلی میں کوئی نمائندہ جماعت نہیں، یہ راجہ ریاض اور شہباز شریف کی اسمبلی ہے، ہم دو تہائی اکثریت سے اسمبلی میں آئیں گے اور اس فیصلے کو ختم کرائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ سائفر ایک عالمی سازش تھا، جس میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا، فیصلہ لکھنے سے پہلے چیف صاحب کو چاہیے تھا کہ یہ سائفر سب کو پڑھا دیتے۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر ہونی چاہیے، پیٹرول سستا ہوتا ہے تو ہم اس کو ویلکم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج پاکستان کو لیڈ کر رہے ہیں یہ عوام کی توہین ہے، سندھ ہاس میں جب خرید و فروخت ہو رہی تھی اس وقت ججوں کو نوٹس لینا چاہیے تھا۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو پاکستان کی تاریخ کا سب سے ناکام وزیرِ خارجہ ثابت ہو رہا ہے، ہمیں عام انتخابات کی طرف جانا ہوگا، اس کے سوا کوئی اور حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں وہ کس حیثیت میں اعلان کر رہی ہیں کہ پیٹرول کی قیمت کم ہو رہی ہے، 4 مہینے فیصلہ روکے رکھا، ضمنی انتخاب سے 2 دن پہلے آپ نے سنا دیا۔