لاہور (ویب نیوز)

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون ختم ہونا چاہیے، جنرل (ر) باجوہ نے میرے ساتھ ہی نہیں ملک کے ساتھ سنگین مذاق کیا، نئی فوجی قیادت سے امید ہے کہ وہ اپنے آپ کو نیوٹرل رکھے گی، میں اپنی حکومت میں بے بس تھا، نیب کیسز کا فیصلہ جنرل (ر) باجوہ کرتے تھے، سابق آرمی چیف فیصلہ کرتے تھے نیب نے کس کو چھوڑنا اور کسے اندر کرنا ہے۔

سینئر کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں سے ملاقات میں چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی وہ کل میری تقریر کا انتظار کریں۔ پی ٹی آئی اور ق لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہم جو فیصلہ کریں گے ق لیگ ہمارے ساتھ ہو گی۔ مسلم لیگ ق مستقبل میں بھی ہماری اتحادی رہے گی، خواہش ہے کہ آئندہ حکومت مضبوط ہو، اتحادی حکومت مسائل کا حل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کے لئے ملک گیر سخت اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جنرل باجوہ نے میرے ساتھ ہی نہیں ملک کے ساتھ سنگین مذاق کیا، ان لوگوں کو این آر او ٹو دیا۔ ملکی مسائل کا حل فوری انتخابات ہی ہیں، اگر انتخابات سے گریز کیا گیا تو سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اربوں روپے لوٹ کر کھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے، مذاکرات صرف انتخابی تاریخ پر ہی ہو سکتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون ختم ہونا چاہیے، نئی فوجی قیادت سے امید ہے کہ وہ اپنے آپ کو نیوٹرل رکھے گی، میری جنگ قانون کی عملداری کے لئے ہے۔ آئین پر عمل کیے بغیر ملک کا کوئی ادارہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ میری کسی سے ذاتی جنگ نہیں، صرف پاکستان اور عوام کی بات کرتا ہوں۔ جلد الیکشن ناگزیر ہیں، سیاسی استحکام آتے ہی ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کریں گے۔

ٰان کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں، بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے پاس وزیر اعظم سے زیادہ اختیارات ہیں، چودھری پرویز الہی چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں کچھ دیر اور چلیں، چودھری پرویز الہیٰ وہ عمل کریں گے جو ہم انہیں کہیں گے، موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، معاشی تباہی سے بچنے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں۔

سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ دسمبر کے مہینے میں ہی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی، چودھری پرویز الہیٰ کے ساتھ مکمل رابطے میں ہوں، اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے جو فیصلہ ہوا چودھری پرویز الہیٰ اس کی مکمل تائید کریں گے، موجودہ حکومت نے 11 سو ارب روپے کا دوسرا این آر او لیا، پاکستان کے تمام چور اکٹھے ہو چکے ہیں، ملک کو بچانے کے لئے انتخابات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

میں بے بس تھا، نیب کیسز کا فیصلہ جنرل (ر) باجوہ کرتے تھے: عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ رول آف لاء نہ ہونے کی وجہ سے ملک دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، نیب والے کہتے تھے ان کے کیسز میچور لیکن پیچھے سے اجازت نہیں، کیسز کا فیصلہ جنرل(ر) باجوہ کرتے تھے،شہباز شریف کا اوپن اینڈ شٹ کیس تھا لیکن سماعت نہیں ہوتی تھی، ملک میں قانون نہیں طاقت کی حکمرانی ہے، میں اپنی حکومت میں بے بس تھا، سابق آرمی چیف فیصلہ کرتے تھے نیب نے کس کو چھوڑنا کسے اندر کرنا ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ملک کا سب سے زیادہ اہم سبجیکٹ رول آف لاء ہے، ملک دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، ملک میں رول آف لاء ہوگا تو ملک دلدل سے نکلے گا، جس ملک میں رول آف لاء نہیں ہوگا وہاں خوشحالی نہیں آ سکتی، پاکستان میں پچھلے 8 ماہ میں رول آف لاء کی دھجیاں اڑائی گئیں جس کی مثال نہیں ملتی، آج کسان، تاجر سمیت تمام طبقے خوفزدہ ہیں، گزشتہ 7 ماہ میں جو کچھ ہوا لوگ مایوس ہو چکے ہیں، مایوسی کی وجہ سے لوگ بیرون ملک جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رول آف لاء شہریوں کو لیول پلائنگ فیلڈ دیتا ہے، ملک میں گزشتہ 8 ماہ میں جنگل کا قانون رائج تھا، اپنی لیگل کمیونٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ انہیں اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی، پاکستان میں جنگل کا قانون بن گیا ہے، سارے چوراوپرآ کربیٹھ گئے، 26 سال سے رول آف لاء کی جدوجہد کر رہا ہوں، جب کوئی ادارہ اپنے آپ کو قانون سے اوپر سمجھے تو پھرملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا، حکومت میں ہوتے ہوئے کہتا تھا ان کو این آراو نہیں دوں گا، آج ان لوگوں کواین آراو مل گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے دورمیں 6 فیصد گروتھ اورکسان خوشحال تھا، ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ گئے مطلب ملک میں مایوسی ہے، الیکشن کمیشن نے 8 دفعہ ہمارے خلاف فیصلے دیے، ملک کے مافیا کا مقصد ملک میں رول آف لاء کو ختم کرنا ہے، اگرملک میں رول آف لاء ختم ہوا تو ان کے بچے ہم پرحاوی ہو جائیں گے، جب تک زندگی ہے رول آف لاء کے لئے لڑوں گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا شہباز شریف کے بیٹے نے ملازمین کے نام پر پیسے منگوائے، پہلے منڈی لگا کر رجیم چینج کروائی گئی، حکومت نے آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اپنے کرپشن کیسز ختم کرائے، سب کے باری باری کرپشن کیسزختم ہو رہے ہیں، ایسا تو شاید بنانا ری پبلک میں بھی نہیں ہوتا۔ لیگل کمیونٹی کو ہر طرح کا پریشر ڈالنا چاہیے، کوئی بھی مقدس گائے نہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ مغربی جمہوریت میں کوئی تصور نہیں کر سکتا کہ چوری کرنے والوں کو مسلط کر دیا جائے، نیب والے کہتے تھے ان کے کیسز میچور ہیں لیکن پیچھے سے اجازت نہیں، کیسز کا فیصلہ جنرل (ر) باجوہ کرتے تھے۔ شہباز شریف کا اوپن اینڈ شٹ کیس تھا لیکن سماعت نہیں ہوتی تھی، ملک میں قانون نہیں طاقت کی حکمرانی ہے، اس وقت ملک کے بڑے بڑے کریمنل باہر بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت میں پوری کوشش کی، ان کے کیسز میچیور تھے، نیب کہتا تھا ان کے کیسز میچیور ہیں لیکن پیچھے سے ہمیں اجازت نہیں، جنرل باجوہ اجازت نہیں دیتے تھے، وہ فیصلہ کرتے تھے کہ نیب نے کس کو کتنا دبانا ہے ، کب چھوڑنا ہے، کب اندر کرنا ہے، شہباز شریف کا کیس ہی نہیں لگتا تھا، میں وزیراعظم بے بس بیٹھا تھا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ شہبازشریف کے بیٹے نے اپنے ملازمین کے نام پر پیسے منگوائے، لوگوں کے ضمیر خرید کر ہماری حکومت ہٹائی گئی۔