A picture shows Israeli air strikes in the Gaza Strip, controlled by the Palestinian Islamist movement Hamas, on May 10, 2021. - Israel launched deadly air strikes on Gaza in response to a barrage of rockets fired by the Islamist movement Hamas amid spiralling violence sparked by unrest at Jerusalem's Al-Aqsa Mosque compound. (Photo by MAHMUD HAMS)

اسرائیل کے غزہ پر زمین، فضا اور سمندر سے شدید حملے،خونریز جھڑپیں جاری ، حماس کے فضائی آپریشن کے سربراہ عاصم بو ربہ کو شہید کرنے کادعویٰ

اسرائیلی فوج کاحماس کی سرنگوں پر وائٹ فاسفورس کا استعمال، غزہ کا دنیا سے رابطہ منقطع کرنے کیلئے انٹرنیٹ سروس بند ، سرحد پر جیمرز بھی نصب کر دیئے

غزہ میں جنگجو بھرپور طاقت کے ساتھ اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ، اسرائیلی فوجیوں کی باقیات غزہ کی سر زمین نگل جائے گی،حماس

ہسپتال کو حماس کا ہیڈکوارٹر قرار دینا بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے، غزہ میں قائم الشفاہسپتال کے ترجمان کی اسرائیلی دعوے کی تردید

رکن یورپی پارلیمان نے اسرائیل کو وحشیانہ نسل پرست ریاست قرار دیا، امریکی وزیر دفاع کا اسرائیلی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، غزہ کے شہریوں کے تحفظ پر زور

غزہ( ویب  نیوز) اسرائیل نے اقوام متحدہ میں عرب لیگ کی جنگ بندی کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کیے جانے کے باوجود فضائی بمباری کے ساتھ زمینی فوج نے رات گئے غزہ کی پٹی میں داخل ہوکر حماس کی سرنگوں پر وائٹ فاسفورس سے حملے کیے ہیں۔اسرائیل نے حماس کے فضائی آپریشن کے سربراہ عاصم بو ربہ کو رات گئے اپنے ایک فضائی حملے میں شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ خونریز جھڑپیں جاری ہیں، غزہ میں اس کے جنگجو بھرپور طاقت کے ساتھ اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں کی باقیات غزہ کی سر زمین نگل جائے گی۔ یورپی پارلیمان کے رکن مک والیس نے کہا ہے کہ نسل پرست اسرائیلی ریاست تاریکی میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔امریکی وزیر دفاع نے اسرائیلی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے غزہ کے شہریوں کے تحفظ پر زوردیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمین، فضا اور سمندر سے شدید حملے شروع کر دیئے ہیں ، اسرائیل کی جانب سے غزہ کا دنیا سے رابطہ منقطع کرنے کیلئے انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی، سرحد پر جیمرز بھی نصب کر دیئے گئے ہیں۔فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق اسرائیلی بمباری سے فیڈر لائنز اور ٹاور تباہ ہو گئے ہیں۔صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم نے غزہ میں مواصلاتی بلیک آؤٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں مواصلاتی بلیک آؤٹ اور نیوز بلیک آؤٹ ہے۔غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کے باعث مختلف مقامات پر دھماکوں کی گونج سنائی دی ہے جبکہ کئی مقامات پر آگ بھڑکنے کے سبب دھوئیں کے بادل آسمان کی جانب بڑھتے نظر آرہے ہیں۔محصور شمالی علاقے بیت لاحیہ، بیت حنون، غزہ شہر کے شمال مغربی اور وسطی علاقے سب سے زیادہ نشانہ بنائے گئے ہیں ، شمالی غزہ میں زیادہ مہلک رفتار سے بمباری کی جا رہی ہے۔اسرائیلی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس(ٹوئٹر)پر اپنے پیغام میں کہا ہے رات گئے ، آئی ڈی ایف کے لڑاکا طیاروں نے حماس کے فضائی آپریشن کے سربراہ عاصم ابو رکبہ کو نشانہ بنایا جس میں وہ مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق عاصم ابو رکبہ حماس کے ڈرونز، پیرا گلائیڈرز، فضائی نگرانی اور دفاع کے ذمہ دار تھے اور سات اکتوبر کو اسرائیل میں دراندازی کرنے والے حملوں کی کمانڈ انھوں نے کی تھی۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں کارروائیاں مخصوص طریقے سے تیز کر دی ہیں۔غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کی جانب سے جاری فوٹیجز میں شمالی غزہ میں بدترین بمباری دکھائی گئی۔اسرائیل کی فوج کے ترجمان ڈینئیل ہاگاری نے ٹی وی بیان میں کہا کہ ہم غزہ سٹی اور اطراف پر کارروائی جاری رکھیں گے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے رات گئے غزہ کی پٹی میں حماس کی سرنگوں پر وائٹ فاسفورس سے حملے کیے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد غزہ کی پٹی پر زمینی چڑھائی کا تجربہ کرنا ہے۔دریں اثنا حماس نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ میں اس کے جنگجو اسرائیلی فوج کے فضائی اور زمینی حملوں میں توسیع کے بعد "مکمل طاقت” کے ساتھ اسرائیل کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔حماس نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کوئی فوجی کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے۔  حماس نے کہا کہ اس کے جنگجو غزہ کے شمال مشرقی قصبے بیت حنون اور البریج کے وسطی علاقے میں اسرائیلی فوج سے لڑ رہے ہیں۔حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ القسام بریگیڈ اور تمام فلسطینی مزاحمتی قوتیں پوری طاقت کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اس کی دراندازی کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مواصلاتی نظام کاٹ دیا ہے اور غزہ کی پٹی پر نیٹ سروس معطل ہوگئی ہے۔حکومتی میڈیا نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ میں قتل عام کر رہا ہے، فضائی، زمینی اور سمندری راستوں سے شمالی غزہ پر بدترین کارروائیاں کر رہا ہے۔فلسطینی موبائل کمپنی جوال نے فیس بک پر بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بدترین بمباری کی وجہ سے بند ہوگئی ہے۔غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل نے بدترین بمباری کی اور اسی وجہ سے سروس بھی معطل ہوگئی ہے۔فلسطینی موبائل کمپنی جوال نے فیس بک پر بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بدترین بمباری کی وجہ سے بند ہوگئی ہے۔ اسرائیل کی توپوں نے غزہ میں قائم الشفا ہسپتال کے قریب بھی شدید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں جانی نقصان کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ دوسری جانب غزہ میں قائم الشفاہسپتال کے ترجمان نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی اور کہاکہ ہسپتال کو حماس کا ہیڈکوارٹر قرار دینا بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ ہسپتال کے ترجمان سلما معروف نے سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں مریضوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جھوٹی آڈیو ریکارڈنگ تیار کر کے ہم پر الزام عائد کیا کہ ہسپتال میں حماس کے لوگ موجود ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ حماس نے ایندھن چرایا ہے۔ادھر یورپی پارلیمان کے رکن مک والیس نے اسرائیل کو وحشیانہ نسل پرست ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست غیر مشروط مغربی حمایت کی مدد سے تاریکی میں جنگی جرائم سر زد کر رہی ہے۔دوسری جانب پینٹاگون نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ ٹیلیفون کال میں انہوں نے غزہ میں آپریشن کے دوران شہریوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

#/S