رائے ونڈ  میں تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع ختم،اختتامی دعا مولانا محمد ابراہیم نے کروائی

اجتماع گاہ میں شرکت کرنیوالے ملکی مہمانوں کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا۔ شرکاء کی تعداد 6لاکھ سے تجاوز کرگئی

دعا میں اسلام ،پاکستان سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کیلئے اللہ کے حضورخصوصی التجائیں کی گئیں

رائے ونڈ (ویب  نیوز)

رائے ونڈ  میں تبلیغی جماعت  کا عالمی اجتماع  ختم ہو گیا ہے ۔ ،اجتماع گاہ میں شرکت کرنیوالے ملکی مہمانوں کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا۔اجتما ع کے آخری روز شرکاء کی تعداد 6لاکھ سے تجاوز کرگئی،عالمی اجتماع کی وجہ سے بند تعلیمی ادارے آج (پیر)کھل جائیں گے.رائے ونڈ  میں تبلیغی جماعت کے  عالمی اجتماع کی دعا  ،مولانا محمد ابراہیم آف انڈیا نے کرائی ،اجتماع کی مختلف نشستوں سے خطا ب کرتے ہو ئے مولانا عبیداللہ خورشید ،مولانا محمد ابراہیم آف انڈیا نے کہا کہ دعا اللہ رب العزت سے رابطے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ،دعا حاجت بھی ہے اور عبادت بھی ،دعا ایک بہترین ہتھیار ہے دعائوں میں عافیت مانگا کرو ،عافیت سے دنیا و آخرت کی نجات اور کامیابیاں دعا ہتھیار ہے، عافیت مانگا کرو، دنیا آخرت کی نجات مل جائے، عافیت کا مطلب کسی دینی فتنے، موذی بیماری میں مبتلا نہ ہونا ہے اس لئے عافیت کی ہی دعا مانگی جائے ، عام انسان کی ہدایت کے لئے دعا مانگیںتاکہ ہر شخص جہنم جانے سے بچ جائے اور جنت میں چلا جائے یہی تڑ پ اور فکر پیدا کرنے کی ضرورت ہے اللہ رب العزت کی جانب سے دعابہت بڑا انعام ہے،اللہ تعالیٰ سے عاجزی کی توفیق مانگی جائے عاجزی سے عنایات کی بارش ہو تی ہے ،تکبر شیطان کا وار ہے اللہ جب کسی خیر کو دیتا ہے تو اس کے لئے ، اوپر سے دینے کا ارادہ کر لیتا ہے، جب اللہ کسی کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس شخص کو کسی نیک آدمی کے پیچھے لگا دیتا ہے،جس سے اسکی ذلت کا آغا ز ہو جاتا ہے او ر جب کسی کو عنایت کرنا چاہتا ہے تو اسکو کسی نیک اور اچھے انسان کے پیچھے لگا دیتا ہے ، دعاؤں کا اہتمام کریں، اللہ ہی قبول کرنے والا ہے، مسنون دعائیں کریں، اللہ نے اپنے انبیاء کرام کو دعائیں سکھائیں ہیں، حضور اکرم نے جو دعائیں سکھائیں ہیں وہ مانگیں، اہتمام کریں، قبولیت کا یقین بھی کریں،اجتماع کے شرکاء اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے کیلئے نیک صالح اعما ل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں ،دعوت وتبلیغ کے اثرات چھ فٹ کے قد پر مرتب ہونے چاہیں ،عبادات کیساتھ ساتھ اپنے معاملات کی درستگی پر خصوصی توجہ دیں ،حقوق اللہ کیساتھ حقوق العباد کی بجا آوری ہی انسانیت کی پہچان ہے یہی دعوت کا عظیم پیغام ہے ، اللہ کے راستے میں جان،مال اور وقت لگانے والوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں اور اس کے عوض دنیا اور آخرت کی کامیابیاں انہیں نصیب کردیتے ہیں اس لئے دل شکستہ ہونے کی بجائے دعوت کے کام کو اپنائے رکھیں اللہ غیبی طاقت سے آپ کی مدد کرے گا ۔اللہ کی وحدانیت بیان کی ان کا کہنا تھا کہ کامل انسان وہ ہے جس کے دل میں اللہ کے ایک ہونے اور سب کچھ اسی کی جانب سے ہونے کا یقین پختہ ہوجائے ،انہوں نے کہا کہ اللہ نے اپنے پیارے نبیۖ کے طریقوں پر چلنے میں کامیابی رکھی ہے ،انہوں نے کہا کہ آج کل کی جدید دنیا کے جدید تقاضوں نے حضرت انسان کو اللہ سے دور کردیا ہے ،سکون دولت، اولاد اور رتبے میں نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کے ذکر اور مظلوموں کے کام آنے میں ہے ،انہوں نے کہا کہ انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد اللہ کی عبادت اور مخلوق خدا کی خدمت ہے ،امیر ہونے اور تعلیم یافتہ ہونے سے جنت نہیں ملے گی ،اللہ کو غرور پسند نہیں ،عاجزی اختیار کرنے میں راحت ہے ،آخری دعا میں دنیا بھر کے مصیبت زدہ مسلمانوں کے لئے خاص طور پر ملکوں کے نام لیکر دعا کی گئی ،انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں دین کی سمجھ عطا کردے کہ ہر کلمہ گو دنیا کیساتھ ساتھ آخرت کی فکر بھی کرئے ہر انسان کو جنت میں لیجانے کی تڑپ اور فکر سینوں میں پیدا کرنا ہوگی تبلیغی جماعت کی ترتیب پہلے سہ روزہ ،پھر عشرہ پھر چلہ لگا کر دین کو سیکھا جائے ہمیں زندگی کے دیگر معاملات کی طرح تبلیغ کے لئے وقت نکالنا چاہیے اس سے ایک تو دین کی سوجھ بوجھ آئیگی دوسرا زندگی کا اصل مقصد واضح ہوگاانہوں نے کہا کہ انسان کے پیدا ہونے سے لیکر مرنے تک کے ہر عمل کی دعا موجود ہے ،اگر ہم دعائیں مانگنے کے عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں گے تو شیطان ہم سے کوسوں دور بھاگ جائے گا ،آج ہم جن مصائب اور مسائل کا شکار ہیں یہ سب دین سے دوری کے نتائج ہیں جو ابھی ہمیں مزید بھگتنے ہیں ،اللہ انسان کی توبہ کا شدت سے منتظر ہے ،انسان کی تقدیر دعائوں میں پوشیدہ ہے ،آج بھی توبہ کرلیں تو تقدیر بدل سکتی ہے  تبلیغ دین کا مشن ایک عظیم فریضہ ہے جسے ادا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا انتخاب کیا ہے ،تبلیغ دین کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے گئے اور سب سے آخر میں خاتم النبین پیغمبر امام کائنات حضرت محمد رسول اللہ  ۖکو دنیا کی رہنمائی کیلئے مبعوث فرمایاگیا ،پیارے آقاۖ نے بھی دین الٰہی کی دعوت دینے کے دوران بے پناہ مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا پیغام بنی نوع انسان تک پہنچانے والوں کو مصائب جھیلنا پڑ تے ہیں ،افضل ہیں وہ انسان جو انسانیت تک اللہ کا پیغام پہنچا نے کیلئے اپنا گھر بار چھوڑ کر اور کاروبار کو ترک کرکے اپنے آپ کو مصیبتوں میں ڈال کر دعوت و تبلیغ کا عظیم مشن انجام دیتے ہیں انہوں نے مندوبین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا اے اللہ پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کی عزت و تکریم کو محفوظ بنادے، امت کے گناہوں سے درگزر فرماکر اپنی رحمتوں کا نزول کردے،امت محمدیہۖ کے درمیان اختلافات ختم کرکے اسے امت واحدہ بنادے،مسلمانان عالم کو تبلیغ کی برکات سے دین الٰہی پر چلنے والا بنادے ،اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے امت مسلمہ پر مہربانیوں کے دروازے کھول دے ،دوزخ کے بھیانک عذاب سے بچا کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمادے، انہوں نے کہا کہ دنیاوی لذتوں میں گم ہوکر امت محمدیہۖ دین الٰہی سے دور جاچکی ہے ،تبلیغ کا عظیم مشن بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لانے کیلئے ہے عظیم ہیں وہ لوگ جو خالص اللہ کی رضا کیلئے اپنے گھر بار چھوڑ کر امام کائنات حضرت محمد رسول اللہ ۖکی سنتوں کو ہر انسان تک پہنچانے کی سعی کرنا ہے.

#/S