نیپرا نے وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کروائے گئے ونٹر پیکیج کی منظوری دے دی
ونٹر پیکج سے صنعتی نیٹ میٹرنگ اور ویلنگ صارفین بھی مستفید ہونگے،اضافی یونٹ کی قیمت26 روپے 7 پیسے  ہوگی،اعلامیہ
 ونٹر پیکیج کی میعاد 3ماہ(دسمبر تا فروری)تک ہوگی ،نوٹیفکیشن سے قبل ونٹر پیکیج کے فیصلے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کردیا

اسلام آباد (ویب  نیوز )

نیپرانے وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کروائے گئے ونٹر پیکیج کی منظوری دے دی۔ نیپراکی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ونٹر پیکج سے صنعتی نیٹ میٹرنگ اور ویلنگ صارفین بھی مستفید ہوں گے، وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں صنعتی نیٹ میٹرنگ اور ویلنگ صارفین کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ ونٹر پیکیج کے تحت گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی یونٹ کی قیمت 26 روپے 7 پیسے  ہوگی۔ نیپرا کے مطابق ونٹر پیکیج میں گھریلو صارفین کو بجلی کے کم سے کم اضافی استعمال پر 30 فیصد یا 11 روپے 42 پیسے فی یونٹ اور زیادہ سے زیادہ اضافی استعمال پر 50 فیصد یا 26 روپے فی یونٹ کی بچت ہوگی۔اسی طرح صنعتی صارفین کو بجلی کے کم سے کم اضافی استعمال پر 18 فیصد یا 5 روپے 72 پیسے فی یونٹ اور زیادہ سے زیادہ اضافی استعمال پر 37 فیصد یا 15 روپے 5 پیسے فی یونٹ کی بچت ہوگی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ونٹر پیکیج کی معیاد 3 ماہ(دسمبر تا فروری)تک ہوگی اور نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل ونٹر پیکیج کے فیصلے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔نیپرا کے مطابق سی پی پی اے جی نے ایک  روپے ایک پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کرائی تھی، نیپرا نے درخواست پر 26 نومبر کو عوامی سماعت کی۔ اعلامیہ کے مطابق کمی کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائیلائف لائن، پری پیڈصارف، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنزپر ہوگا جبکہ کے الیکٹرک صارفین پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔