ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاجی   مظاہرے
 مظاہرین نے ٹرمپ کے حکم پر غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کو تنقید کا نشانہ بنایا

 واشنگٹن(  ویب  نیوز)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاجی  مظاہرے ہوئے ہیں نیویارک، واشنگٹن اور امریکا کے دیگر شہروں میں ہزاروں مظاہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف مظاہروں کے دوسرے بڑے مرحلے میں ریلیاں نکالیں۔ نیو یارک میں لوگ شہر کی مرکزی لائبریری کے باہر جمع ہوئے، جن کے پاس امریکی صدر کے خلاف تحریر کیے گئے نعروں بینرز تھے، اب بینرز پر امریکا میں کوئی بادشاہ نہیں اور ظلم کے خلاف مزاحمت جیسے  نعرے درج تھے۔بہت سے لوگوں نے ٹرمپ کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کو تنقید کا نشانہ بنایاواشنگٹن میں مظاہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ٹرمپ طویل عرصے سے قابل احترام آئینی اصولوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جن میں مناسب کارروائی کا حق بھی شامل ہے۔سان فرانسسکو کرونیکل کی رپورٹ کے مطابق مغربی ساحل پر سیکڑوں افراد سان فرانسسکو کے ایک ساحل پر جمع ہوئے اور مواخذہ، ہٹائو کے الفاظ لکھے۔آس پاس موجود دیگر لوگوں نے الٹا امریکی جھنڈا اٹھا رکھا تھا، جو روایتی طور پر پریشانی کی علامت تھا۔منتظمین کو امید ہے کہ ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈان، سرکاری ایجنسیوں میں ان کی سخت کٹوتیوں اور یونیورسٹیوں، نیوز میڈیا اور قانونی فرموں پر دبا کے بارے میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کو ایک پائیدار تحریک بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے چیف آرگنائزر گروپ 50501 (جو 50 ریاستوں اور ایک تحریک کے 50 مظاہروں کی نمائندگی کرتا ہے) نے کہا کہ تقریبا 400 مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اس کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کے غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدامات کا فوری ردعمل ہیں اور اس نے تمام مظاہروں کو غیر متشدد ہونے پر زور دیا ہے۔اس گروپ نے ہفتہ کے روز لاکھوں افراد سے شرکت کی اپیل کی تھی، تاہم 5 اپریل کو ملک بھر میں ہونے والے ہینڈز آف مظاہروں کے مقابلے میں شرکا کی تعداد کم دکھائی دی۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔