بلوچستان کے مسئلے کاسیاسی حل تلاش کیا جائے،فوجی آپریشن کوئی حل نہیں۔حافظ نعیم الرحمن
حکمران عوام کا خون چوس رہے ہیں،تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے لیوی 107سے بڑھ کر 117روپے تک جاپہنچی ہے۔
لاہور(ویب نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کو ختم اور عوام کو ان کا حق ملنا چاہئیے۔ پاکستان کسی حکمران کا نہیں، عوام کا ہے۔بلوچستان کے قدرتی وسائل پر وہاں کے عوام کا حق ہے۔عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھ کر خوشحالی اور امن کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا بھر میں تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں،وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اپنے نظریے کے مطابق ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بن کر ابھرے گا۔عوام مایوس نہ ہوں اور تبدیلی کی اس لہر میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔غیر اسلامی نظام میں رہتے ہوئے اسلام کے مطابق زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔جماعت اسلامی پسے ہوئے عوام کی آواز اور آخری امید ہے۔تعلیم،صحت،روز گار،مہنگائی،بدامنی سمیت قومی اور عوامی مسائل پر جماعت اسلامی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ کرپٹ اور بدیانت حکمران عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ظلم کا یہ نظام اب نہیں چلے گا۔جماعت اسلامی ان لٹیروں کو عوام کے سامنے لائے گی۔سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورس کرکے اڑھائی کروڑ سے زیادہ طلبا اور لاکھوں اساتذہ کا استحصال کیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں دو روزہ سوشل میڈیا لیڈر شپ ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔لیڈر شپ ورکشاپ میں ملک بھر سے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ مرد و خواتین کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں عدالتوں کا گلا سڑا نظام کسی کو انصاف نہیں دے سکتا،اس نظام کی موجود گی میں عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں مل سکتے۔جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک اس فرسودہ نظام سے نجات کی جدوجہد ہے۔لیکن جب تک اقتدا ر پر ظلم کا یہ نظام مسلط کرنے والے رہیں گے عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کی طاقت سے اقتدار میں آکر جاگیرداروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کا مسلط کردہ نظام الٹ دے گی اور ملک میں اللہ کی حاکمیت قائم کرے گی جس میں ہر شہری کو تعلیم اور صحت کی وہی سہولتیں ملیں گی جن پر اب تک حکمرانوں نے قبضہ کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں کی وجہ سے ہمارے ملک کا قرضہ 85 ہزار ارب روپے تک جاپہنچا ہے اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر 20ارب روپے اضافہ ہو رہا ہے۔17 ہزار ارب کے بجٹ میں آدھا بجٹ سود کی مد میں جا رہا ہے اور باقی آدھا حکمرانوں کے اللے تللوں میں خرچ ہوجاتاہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سود کی لعنت کو ختم کرنے کی بجائے ایک بار پھر شرح سود میں اضافہ کردیا ہے جبکہ ایک فیصد اضافے سے قرضوں میں 540 ارب روپے کا اضافہ ہوجاتا۔ ایسے نااہل حکمرانوں کی موجودگی میں عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آسکتا۔ان حکمرانوں کو 100ارب ڈالر بھی دے دیئے جائیں تو مل بانٹ کر کھاجائیں گے۔جماعت اسلامی اس ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتی،ہم سے جو کچھ ہوسکا کریں گے اور لادینیت کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں گے۔ لیڈر شپ ورکشاپ میں شریک بلوچستان کے کارکنوں کے سوالوں کے جواب میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر جماعت اسلامی کا موقف بڑا واضح اور دو ٹوک ہے کہ فوجی آپریشن کو ختم ہونا چاہئے اور عوام کو ان کا حق ملنا چاہئے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی تعلیم، صحت اورخدمت کے میدان اپنا ایک نمایاں مقام بنا چکی ہے۔ہمیں اقتدار ملا تو تعلیم کو 100فیصد مفت کردیں گے۔ملک بھر میں لاکھوں طلباء و طالبا ت بنو قابل پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں اور ہزاروں فارغ التحصیل ہونے والے اپنے خاندانوں کی کفالت کررہے ہیں۔




