غزہ(ما نیٹرنگ ڈیسک )
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی حکومت ختم کرنے اور تمام تر اختیارات ایک آزاد ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

غزہ حکومت کے میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے حکومت کو تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کا اقتدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ کی حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔

حماس حکومت نے اپنے باقاعدہ بیان میں واضح کیا ہے کہ غزہ کے تمام سول سرکاری ملازمین معمول کے مطابق اپنی خدمات فراہم کرتے رہیں گے۔ بیان میں ان ملازمین کو ‘پبلک ورکرز’ قرار دیا گیا ہے جو اب ‘نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ’ کی ذمہ داری اور نگرانی میں کام کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

حماس کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اختیارات کی باقاعدہ منتقلی کے لیے تمام ضروری انتظامی مراحل اور تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس کا یہ اقدام بڑی حد تک علامتی ہے اور فوری طور پر اس کے عملی اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ حماس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے مطابق غزہ کی پٹی کا انتظامی کنٹرول نیشنل کمیٹی کے سپرد کرنے کے لیے سنجیدہ اور تیار ہے۔