پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن  نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایندھن کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو ملک بھر کے پیٹرول پمپ پیر سے بند ہونا شروع ہو سکتے ہیں

سپر  ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشاتقلت کی افواہیں بے بنیاد قرار) 

ملک بھر میں پیٹرول کی سپلائی تقریباً 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے جبکہ ڈیزل کی دستیابی معمول کے صرف 20 فیصد رہ گئی ہے۔ صورتحال برقرار رہی تو ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ودہری عرفان  الہی 

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ اوگرا کے مطابق قبل از وقت درآمدات کی وجہ سے پاکستان کے پاس تقریباً 28 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرول کا ذخیرہ موجود ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اوگرا  

لاہور ( ما نیٹرنگ ڈیسک )    پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایندھن کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو ملک بھر کے پیٹرول پمپ پیر سے بند ہونا شروع ہو سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایسوسی ایشن نے ایندھن کی سپلائی میں بگاڑ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں رکاوٹ نے پہلے ہی ریٹیل آؤٹ لیٹس پر دستیابی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

پی پی ڈی اے کے مرکزی سیکریٹری جنرل چودہری عرفان  الہی   نے کہا کہ ملک بھر میں پیٹرول کی سپلائی تقریباً 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے جبکہ ڈیزل کی دستیابی معمول کے صرف 20 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لاہور کے صدر جہانگیر ملک  اور سنٹرل پنجاب کے صدر نعمان  مجید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریٹیل آؤٹ لیٹس کو پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

انہوں نے حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معائنوں کے دوران پیٹرول پمپوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ سپلائی ڈپوؤں کی جانچ نہیں کی جا رہی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق بعض نجی آئل کمپنیاں مبینہ طور پر پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کر رہی ہیں جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب  اوگرا  نے ڈیلرز کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ اوگرا کے مطابق قبل از وقت درآمدات کی وجہ سے پاکستان کے پاس تقریباً 28 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرول کا ذخیرہ موجود ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

ادھر پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کی جانب سے پیٹرول پمپوں کے خلاف کارروائی کے اعلان کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین Nauman Butt نے کہا کہ پیٹرول پمپ مالکان مجوزہ کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ریٹیلرز کو ایندھن کی قلت کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو پیٹرول پمپوں پر پہنچتا ہے وہ فوری فروخت کر دیا جاتا ہے اور کوئی بھی پمپ مالک پیٹرول یا ڈیزل ذخیرہ نہیں کر رہا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق تمام پیٹرول پمپوں پر فروخت جاری ہے اور دستیابی کا تعلق صرف محدود سپلائی سے ہے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ اگر کارروائی کرنی ہے تو آئل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کی جائے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں پیٹرول پمپوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی ناانصافی ہے۔