وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی امیدوں کا محور بنا، کئی دہائیوں بعد امریکہ ایران کو ایک میز پر بٹھایا، پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لئے کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا، امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے، دونوں ملکوں کے وفود ہماری درخواست پر تشریف لائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ دعوت قبول کرنے کا ایران اور امریکا کے صدور کا مشکور ہوں، یہ میری نہیں پاکستان کےعوام کی عزت ہے، ایران اور امریکا نے 2 ہفتے کی جنگ بندی پراتفاق کیا، دونوں ملکوں کےاعلیٰ سطح وفود میں 21گھنٹے تک بات چیت جاری رہی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امن کی بحالی کے لیے ثالثی کا موقع ملا، ابھی تک سیزفائر قائم ہے، معاملات کو حل کرانے کے لیے پوری کوشش جاری ہے، یہ تاریخی لمحہ وطن عزیز کے 24 کروڑ عوام کے لیے باعث فخر ہے۔

وزیراعظم  نے کہا کہ اسلام آباد ٹاکس کے ذریعے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنےکا موقع ملا، مذاکرات میں ایسے مواقع بھی آئے کہ فریقین میں بات ٹوٹتے ٹوٹتے دوبارہ شروع ہوئی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کو شاباش اور شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جب کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈاراوران کی ٹیم بھی خراج تحسین کی مستحق ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر راتوں کو جاگے، اُن کی فراست سے عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد ہوا۔