امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ایرانی تجاویز کو اتنی آسانی سے قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹرتھ سوشل پر پوسٹ سے قبل ایرانی تجاویز دیکھ چکے تھے۔
لیڈ (معاہدے کا ایرانی خاکہ ) مجھے نہیں لگتا قابل قبول ہوگا. ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا ’’میں یہاں اوپر اس کا جائزہ لے رہا ہوں۔ میں آپ کو بعد میں اس کے بارے میں بتاؤں گا… انھوں نے مجھے معاہدے کا ایک خاکہ بتایا ہے لیکن اب وہ مجھے اس کے درست الفاظ فراہم کریں گے۔‘‘ صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ وہ ’’جلد ہی اس منصوبے کا جائزہ لیں گے
مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے، ایران اپنے مؤقف اور مطالبات میں شفاف ہے، اگر امریکہ سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ ایران قومی مفادات اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جنگ کے خاتمے کے لیے نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے،سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم
جب صدر ٹرمپ ایئر فورس وَن میں سوار ہو کر فلوریڈیا کے شہر ڈورل جانے والے تھے تو انھوں نے پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’میں نے تجاویز کو ابھی تک نہیں دیکھا۔‘‘
ٹرمپ نے کہا ’’میں یہاں اوپر اس کا جائزہ لے رہا ہوں۔ میں آپ کو بعد میں اس کے بارے میں بتاؤں گا… انھوں نے مجھے معاہدے کا ایک خاکہ بتایا ہے لیکن اب وہ مجھے اس کے درست الفاظ فراہم کریں گے۔‘‘
بعد میں صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ وہ ’’جلد ہی اس منصوبے کا جائزہ لیں گے جو ایران نے ہمیں ابھی بھیجا ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ قابل قبول ہوگا، کیوں کہ انھوں نے گزشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘‘
اس بیان کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ایرانی تجاویز کو اتنی آسانی سے قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹرتھ سوشل پر پوسٹ سے قبل ایرانی تجاویز دیکھ چکے تھے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ’’دشمنی‘‘ ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے ایک پرانے قانون کے تحت 60 دن کی اہم ڈیڈ لائن کا حوالہ دیا تھا، جو کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی طاقت کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

تہران، اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے نیا مذاکراتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا دیا ہے، مذاکرات میں پیشرفت کا دارومدار امریکی رویے پر ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے، ایران اپنے مؤقف اور مطالبات میں شفاف ہے، اگر امریکہ سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران قومی مفادات اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جنگ کے خاتمے کے لیے نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے، موجودہ عمل میں پاکستان مرکزی ثالث ہے اور اس کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، پاکستان بدستور ثالث ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ عالمی برادری ایران کا واضح اور منطقی مؤقف دیکھ رہی ہے، امریکہ کا رویہ غیرمستحکم ہے، ایران سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے مگر پیشرفت کا دارومدار امریکہ پر ہے، امریکہ کو جارحانہ رویہ ترک کرکے ایران کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط میں اضافہ جاری ہے، پاکستان خطے میں تجارتی راستوں کے تنوع اور ایران کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے، میرجاوہ، تفتان اور گبد ریمدان بارڈر کراسنگ پاک ایران تجارت کے لیے اہم ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے 14 نکاتی تجاویز مل چکی ہیں جن کے متعلق انتظامیہ تفصیلی بات کرے گا تاہم ایران پر حملہ بھی خارج از امکان نہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی ٹی وی 12 نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر اور سینٹکام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر میں ان دنوں روابط میں تیزی آئی ہے اور ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔





