ہر ہائی کورٹ انتظامی معاملات میں مکمل آزاد و خود مختار ہے: وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد: (ویب  نیوز )

وفاقی آئینی عدالت نے اصول طے کر دیا ہے کہ ہائی کورٹ نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت ہے۔

وفاقی آئینی عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو کیس جلد نمٹانے کی ہدایت کی استدعا کی گئی، جس پر جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا اور قرار دیا کہ اکثر اعلیٰ عدلیہ سے ہائیکورٹ کو جلد فیصلوں کی ہدایات کرنے کی درخواستیں کی جاتی ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ملک میں اس وقت 5 خودمختار ہائیکورٹس ہیں، ہر ہائی کورٹ آزاد آئینی عدالت ہے، ہائیکورٹ نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت ہے۔

فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ ضلعی عدالتیں یا دیگر ایسی عدالتیں جو آرٹیکل 203 کے تحت قائم ہوئیں، وہ ہائیکورٹ کے ماتحت ہیں، ہائیکورٹ کے تمام فیصلے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جاسکتے ہیں، ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنا عدالت کو کسی بھی طرح ماتحت نہیں بناتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ ہائیکورٹس کو ہدایات جاری کرنے کے احکامات بہت احتیاط اور مناسب الفاظ میں دیے جانے چاہئیں، ہائیکورٹس کے پاس مقدمات کی مقرر کردہ تاریخوں کی پالیسی کے ساتھ ساتھ اپنے آزاد روسٹر اور کیس مینجمنٹ کے نظام موجود ہوتے ہیں۔

فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ کوئی بھی حکم یا ہدایت جو ایسی پالیسی یا کیس فکسیشن پر حاوی ہو، ہائیکورٹس کی عدالتی اور انتظامی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق بلا شبہ بعض اوقات مقدمے کی ہنگامی نوعیت کا تقاضا ہوتا ہے کہ معاملہ واپس بھیجے جانے پر متعلقہ ہائی کورٹ کی جانب سے جلد سنا جائے، ایسے مقدمات میں مناسب الفاظ کا استعمال ہونا چاہئے تاکہ ہائی کورٹ کی آزادی متاثر ہو، آئینی عدالت کے مطابق عام طور پر جاری کردہ ہدایات عدالتی کے بجائے انتظامی نوعیت کی ہوتی ہیں۔

فیصلہ دیا گیا کہ اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا جاتا ہے کہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التواء تصور کی جائے گی، توقع کی جاتی ہے کہ کیس کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔