بعض لوگ اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہی لوگ ماضی میں ان کے پاس آکر کہتے تھے کہ گورنر راج نافذ کرکے ان سے جان چھڑائی جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دعویٰ
lead( ریاستی اداروں مخالف بیان) مولانا فضل الرحمان کے احترام کی گنجائش نہیں رہی ( وزیر داخلہ محسن نقوی )
سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اس طرح کا رویہ کسی سیاست دان کو زیب نہیں دیتا، مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز اداروں سے متعلق انتہائی نامناسب بیان دیا۔ جب تک ریاست سے فائدے ملتے رہیں تو ریاست اچھی لگتی ہے لیکن جب حصہ یا حکومت نہ ملے تو ریاست پر تھوکنا مناسب نہیں، اگر تنقید کرتے ہیں تو جواب سننے کی ہمت بھی پیدا کریں۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ایران کا دورہ کسی دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے اس مؤقف کو غلط قرار دیا کہ وہ دفاعی معاہدے کے سلسلے میں ایران گئے تھے. تنقید کرنے والوں کو جواب بھی سننا چاہیے اور ریاستی اداروں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ محسن نقوی

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اس طرح کا رویہ کسی سیاست دان کو زیب نہیں دیتا، مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز اداروں سے متعلق انتہائی نامناسب بیان دیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جب تک ریاست سے فائدے ملتے رہیں تو ریاست اچھی لگتی ہے لیکن جب حصہ یا حکومت نہ ملے تو ریاست پر تھوکنا مناسب نہیں، اگر تنقید کرتے ہیں تو جواب سننے کی ہمت بھی پیدا کریں۔
محسن نقوی نے کہا کہ بعض لوگ اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہی لوگ ماضی میں ان کے پاس آکر کہتے تھے کہ گورنر راج نافذ کرکے ان سے جان چھڑائی جائے۔
ایران کے دورے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ شوق سے ایران نہیں جاتے بلکہ وزیراعظم نے انہیں باقاعدہ خصوصی ٹاسک دیا ہوا ہے، جس کے باعث وہ ان کے ہمراہ ایران جاتے ہیں۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ ایران کا دورہ کسی دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے اس مؤقف کو غلط قرار دیا کہ وہ دفاعی معاہدے کے سلسلے میں ایران گئے تھے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو جواب بھی سننا چاہیے اور ریاستی اداروں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔





