جہانگیر ترین نے ہمارے تمام اگست تک کے واجبات ادا کردیئے ہیں ، جہانگیر ترین کے 40 گھریلو ، 28 ٹیوب ویل ، 2 کاٹن فیکٹریوں، 1 کولڈ سٹوریج اور 4 شوگر ملوں کے بجلی کے بل ادا ہوچکے ہیں،میپکو کی وزارت پانی وبجلی کو رپورٹ
اسلام آباد /ملتان …. ملتا ن الیکٹرک سپلائی کمپنی (میپکو) نے وزارت پانی و بجلی کو بتایا ہے کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کے ذمہ کمپنی کے کوئی واجبات بقایا نہیں ، ان کے تمام گھریلو اور تجارتی کنکشنز کے ماہ اگست تک کے بل ادا ہوچکے ہیں ۔ جمعرات کو میپکو کی جانب سے وزارت پانی وبجلی کو بھجوائی گئی رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کے 40 گھریلو ، 28 ٹیوب ویل ، 2 کاٹن فیکٹری ، 1 کولڈ سٹوریج اور 4 شوگر ملوں کے بجلی کے بل ادا ہوچکے ہیں ، ان کے ذمہ کوئی بھی رقم واجب الادا نہیں ہے ۔ رپورٹ میں جہانگیر ترین کے 75 میٹروں کے حوالہ نمبر دیئے گئے ہیں ، جن میں بقایا جات کے خانے نل بتایا گیا ہے جبکہ کسی رپورٹ میں وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے قریبی رفقاء اور رائے حسن نواز ایم این اے ، وحید اصغر ایم پی اے اورنگزیب ایم این اے ، اسحق خان خاکوانی سمیت اہم رہنماؤں نے بھی بجلی کے بل جمع کروا دیئے ہیں ۔ واضح رہے کہ عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ کوئی رہنماء اور کارکن بجلی اور گیس کے بل جمع نہ کروائیں ۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔