اسلام آباد(صباح نیوز)

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر   نے کہا ہے  کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر ڈھائی ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکیج کا آغاز کر دیا ،حکومت پاکستان نے یوٹیلٹی اسٹورکو 50 ارب دیئے،تخمینہ ہے رمضان میں 80 لاکھ سے ایک کروڑ گھرانے یوٹیلیٹی اسٹورز سے مستفید ہوں گے ۔  انہوں نے جی نائن مرکز اسلام آباد میں یوٹیلٹی اسٹور پر رمضان پیکج کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ حکومت پاکستان نے یوٹیلٹی اسٹورکو 50 ارب دیئے ہیں، پہلے 5 اشیا پرسبسڈی دی جا رہی تھی اور اب 19 اشیا پر ریلیف دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بڑی تعداد میں یوٹیلٹی اسٹورز کو بڑھا رہے ہیں، موبائل یوٹیلٹی اسٹورزبھی قائم کر رہے ہیں، ڈھائی ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا   لیکن ریلیف پیکیج صرف رمضان تک محدود نہیں رہے گا۔ان کا کہنا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز ایک آٹو میٹک ڈیجیٹل ادارہ بننے جا رہا ہے اور اس ادارے میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ انہوں  نے کہا کہ تخمینہ ہے رمضان میں 80 لاکھ سے ایک کروڑ گھرانے یوٹیلیٹی اسٹورز سے مستفید ہوں گے جب کہ قیمتوں پر کنٹرول کرنے کا نظام موجود ہے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف نیا قانون لا رہے ہیں جس کے تحت ذخیرہ اندوزی پر دکان کے مالک کو سزا ملے گی۔لاک ڈائون میں نرمی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ جو جو سیکٹرز کھولے جا رہے ہیں وہ باقاعدہ تحقیق کے ساتھ کھول رہے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کاروباری طبقے کے حالات بھی بہتر کرسکیں۔حماد اظہر نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل پرکوئی پابندی نہیں ہے لیکن لاک ڈائون کے دوران ہمیں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔