PRESIDENT DR. ARIF ALVI CHAIRED A MEETING ON I-VOTING SYSTEM AT AIWAN-E-SADR, ISLAMABAD ON JULY 21, 2020.

انٹرنیٹ ووٹنگ کے عمل میں ووٹ کی رازداری کو یقینی بنایا جائے ،صدر عارف علوی

ووٹنگ کا نظام شفاف اور لوگوں کو اس پر مکمل اعتماد ہونا چاہئے

جدید نظام میں بیرون ملک مقیم ووٹرز کی بڑی تعداد کو ووٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے

نظام کی فنی صلاحیت جائزہ لینے اور ممکنہ حل تجویز کرنے کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے

صدر مملکت  کے الیکٹرانک ووٹنگ اجلاس میں ہدایات

#/H

آئٹم نمبر…86

اسلام آباد(صباح نیوز)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہدایت کی ہے کہ آئی ووٹنگ (انٹرنیٹ ووٹنگ) کے عمل میں ووٹ کی رازداری کو یقینی بنایا جائے ،ووٹنگ کا نظام شفاف اور لوگوں کو اس پر مکمل اعتماد ہونا چاہئے، صدر مملکت نے ان خیالات کااظہار اپنے زیر صدارت  الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ اجلاس میں کیا،اجلاس میں سیکرٹری آئی ٹی ، شعیب احمد صدیقی ،  اور چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین نے شرکت کی،الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نادرا کے عہدیدار بھی اجلاس میں شریک تھے،اجلاس میں نظام کی تکنیکی افادیت ، رازداری اور حفاظت کے پہلوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی ،اس موقع پر صدر نے کہاکہ ووٹرز کی  رازداری کو برقرار رکھا جائے اور تمام قانونی تقاضے  پورے کئے  جائیں ، صدر عارف علو ی نے کہاکہ جدید نظام میں بیرون ملک مقیم ووٹرز کی بڑی تعداد کو ووٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے، انہوں نے کہاکہ نظام کی فنی صلاحیت جائزہ لینے اور ممکنہ حل تجویز کرنے کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے،ووٹنگ نظام پر سفارشات کے ساتھ رپورٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے ، صدر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فول پروف ووٹنگ سسٹم کی تیاری کے لئے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں، جبکہ ضمنی انتخابات میں تیار کردہ ای وی ایس کا پائلٹ ٹیسٹ کیا گیا ،نظام کا آزادانہ جائزہ بھی لیا جائے گا

#/S

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔