تحریک انصاف کی طرح وفاق نے بھی ضیاء الرحمن کے معاملے پر یوٹرن لے لیا:حافظ حسین احمد

کوئٹہ(سٹاف رپورٹ)

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی طرح وفاق نے بھی ضیاء الرحمن کے معامل پر یوٹرن لے لیا، وفاق کے یوٹرن نے ثابت کردیا کہ خیبر پختونخواہ اور وفاق میں عمران نیازی کی کوئی رٹ موجود نہیں، ”نکا” اب ”ابے” کے لیے ”بے تکا” ہوچکا ہے، عمران نیازی اب اپنے غیر ملکی یاروں معاونین خصوصی کو بھی واپسی کی راہ دکھا دیں ، شہباز شریف کی اگر صحت ٹھیک نہیں تو مسلم لیگ ن اپنے اندر سے نیا اپوزیشن لیڈر سامنے لائے۔ پیر کے روز جامع مطلع العلوم میںنجی چینل اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دوست مولانا فضل الرحمن کے بھائی ضیاء الرحمن کے ایک انتظامی معاملے پر آسمان سر پر اٹھانے کے بجائے خیبر پختونخواہ اور وفاق میں موجود ان عناصر کو کہ جنہوں نے ضیاء الرحمن کے حوالے سے فیصلے کئے تھے تلاش کریں،جے یو آئی ترجمان کا کہنا تھا کہ آج وفاق نے بھی یوٹرن لے کر اپنے فیصلے کو واپس لیکر یہ ثابت کردیا ہے کہ خیبرپختونخواہ اور وفاق میں عمران خان نیازی کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے اور یہ اپوزیشن کے اس موقف کی تائید ہے کہ نکا اب ”بے تکا” بھی ہوچکا ہے، انہوں نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ وزیر اعظم اپنے غیر ملکی معاونین خصوصی زلفی بخاری، معید یوسف، ڈاکٹر شہباز گل، شہزاد قاسم، تانیہ ایس ایدروس، ندیم افضل گوندل سمیت دیگر غیر ملکی یاروں کو بھی واپسی کی راہ دکھا دیں ،حافظ حسین احمد نے کہا کہ ”نکے” کو بچانے کے لیے جو جال ”ابے” نے بچھایا ہے اس میں اپوزیشن کے بعض رہنما بھی جکڑے جاچکے ہیں اللہ تعالیٰ شہباز شریف کومیاں نواز شریف کی طرح صحتیاب کرے اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر مسلم لیگ (ن) اپنے اندر سے ایک نیا اپوزیشن لیڈر سامنے لائے اگر یہ بھی نہیں کیا جائے گا تو اگلے آپشن کے لیے مسلم لیگ (ن )کے علاوہ دیگراپوزیشن جماعتیں از خود فیصلے میں حق بجانب ہونگے۔

Editor

Next Post

۔پی آئی اے کیبن کریو کیلئے جہاز میں سوار ہونے سے قبل سانس کا معائنہ لازم قرار

منگل جولائی 28 , 2020
کراچی (سٹاف رپورٹ) پی آئی اے کیبن کریو کے لیے آئندہ کسی بھی فلایٹ سے قبل میڈیکل ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا گیا، کیبن کریو کے سانس کا معائنہ بریفنگ رومز میں پی آئی اے کے فلائٹ سرجنز اور میڈیکل آفیسر خود کریں گے۔پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کے […]