بلیک میلنگ برداشت نہیں کریں گے، نواز شریف سمیت ہر ملزم کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا، وزیراعظم

وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی واپسی سے متعلق امور پر بات چیت

حکومتی لیگل ٹیم کونوازشریف کی واپس کے حوالے سے ٹاسک مل گیا

گیارہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری،مالیاتی پالیسی بورڈز میں معروف معیشت دانوں کی نامزدگیوں کی منظوری

 تعمیرات کے بارے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پیپرا رولز میں نرمی کی بھی منظوری

وزیراعظم  کا ایم ایل ون میں پشاور سے طورخم کا سیکشن بھی شامل کرنے کا حکم

اسلام آباد(ویب ڈیسک)

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کریں گے۔ نواز شریف سمیت ہر ملزم کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگاوزیراعظم کابینہ اجلاس میں گفتگو کررہے تھے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا  اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے قانونی طریقہ کار پر بھی مشاورت ہوئی، شہزاد اکبر نے نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، احتساب کا عمل جاری رہے گا، کوئی این آر او نہیں ہوگا، نواز شریف سمیت ہر ملزم کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا۔ نواز شریف کو فوری وطن واپس لانا چاہیے، وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو واپس لانے کے لیے قانونی پہلوں کا جائزہ لیا جائے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو وطن واپس لایا جائے، حکومتی لیگل ٹیم کونوازشریف کی واپس کے حوالے سے ٹاسک مل گیا۔ کابینہ نے گیارہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی۔۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں مالیاتی پالیسی بورڈز میں معروف معیشت دانوں کی نامزدگیوں کی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر سرکاری تقرریوں کا معاملہ اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ذرائع نے بتایا کابینہ نے بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف سی کی خدمات لینے کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ ذیلی کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز کے 12 اور 19 اگست کے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز کے 20 اگست کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی ہے۔وفاقی کابینہ میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 12 اور 13 اگست کے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے۔ کابینہ کو تعمیرات سے متعلق پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پیپرا رولز پر بریفنگ دی گئی۔وفاقی کابینہ نے کے پی ٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں چیئرمین پی این ایس سی تقرری کی منظوری دیدی۔چیئرمین پی این ایس سی پاکستان شپ اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندگی کرے گا۔فوڈ اور نان فوڈ آئٹمز کو لازمی سرٹیفکیشن کی لسٹ سے نکالنے کی منظوری دی گئی ہے۔علاوہ ازیں وفاقی کابینہ نے تعمیرات کے بارے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پیپرا رولز میں نرمی کی بھی منظوری دے دی۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے تجویز دی کہ ایم ایل ون منصوبہ میں پشاور تا طورخم سیکشن شامل کیا جائے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایم ایل ون میں پشاور سے طورخم کا سیکشن بھی شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔وزیرِ ریلوے شیخ رشید نے بھی پشاور تا طورخم سیکشن کو ایم ایل ون میں شامل کرنے کی حمایت کردی۔ وفاقی وزیرِ ریلوے پشاور تا طورخم سیکشن کو ایم ایل ون منصوبہ میں شامل کرنے پر مفصل رپورٹ وزیراعظم کوپیش کریں گے۔

Editor

Next Post

مساجد و مدارس کے حوالے سے بل: مذہبی تنظیموں کی تنقید

منگل اگست 25 , 2020
حکومت مساجد کا کنڑول حاصل کرنا چاہتی ہے اور مساجد کو تحریری خطبے دینا چاہتی ہے، مولانا عبدل اکبر چترالی  بل کی آڑ میں جمعے کے خطبے تحریری طور پر دیے جائیں گے اور مساجد کا کنڑول حکومت کے پاس چلا جائے گا، حافظ حسین احمد یہ کوئی سعودی عرب […]