گھریلو سیلنڈر میں 18 روپے اور کمرشل سیلنڈر میں 73 روپے اضافے کا نوٹیفکیشن کاری

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

اوگرا نے گھریلو سیلنڈر میں 18 روپے اور کمرشل سیلنڈر میں 73 روپے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔   اوگرا نے بین الاقوامی مارکیٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایل پی جی کی قیمت میں 1 روپیہ 50  پیسے فی کلو اضافہ کردیا ہے، اور ماہ ستمبر 2020 کے لئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق گھریلو سیلنڈر 18 روپے اور کمرشل سیلنڈرکی قیمت میں 73 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد  اب  ایل پی جی 115 روپے 50 پیسے فی کلو سے بڑھ کر 117 روپے فی کلو، گھریلو سیلنڈر 1364 روپے کی جگہ 1382 روپے اور کمرشل سیلنڈر 5246 روپے سے بڑھنے کے بعد 5319 روپے میں فروخت ہوگا، جب کہ پیداواری قیمت 59096 کی جگہ 60460 روپے ملک بھر میں دستیاب ہوگی۔ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ آئندہ سال میں قدرتی گیس کا بہت بڑا شاٹ فال متوقع ہے جس کی کمی کو پور ا کرنے کے لیے ایل پی جی پر منتقل ہونا ضروری ہے، ایل پی جی واحدسستا فیول ہے جو کہ قدرتی گیس کی کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،  ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل دونوں کمپنیوں کو سالانہ اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے، جس کو پورا کرنے کے لیے ایل پی جی کی پالیسی میں بہتر ترجیحات پر عمل کیا جائے۔عرفان کھوکھر نے کہا کہ اوگرا صرف گھریلو سیلنڈر کی قیمت جاری کرتا ہے، ہم گھریلو سیلنڈر اوگرا کی قیمت پر ملک بھر میں فروخت کرنے کے پابند ہیں۔کسی شہر میں بھی اوگرا کی مقرر کردہ گھریلو سلنڈرکی قیمت سے زائد وصول کرے تو اس کی شکایت فوری طور پر اوگرا کے ہیلپ لائن پر اطلاع دی جائے.

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔