ماسکو (ویب ڈیسک)

مخدوم شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی ہے کہ روس کیساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور طویل مدتی کثیر الجہتی شراکت داری کا امکان موجود ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی دو روزہ دورے پر ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ ڈومو ڈی ڈیوو ائیرپورٹ پہنچنے پر ماسکو میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان، وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری ظہور احمد اور روسی وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، روسی ہم منصب سرگئی لاروف کی دعوت پر روس کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ جمعرات کے روز ماسکو میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وزیر خارجہ وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر اپنے روسی ہم. منصب سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روس کے دورہ پر روانگی سے قبل ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کا کہنا تھا کہ خطے کے اہم ممالک اجلاس میں شریک ہونگے۔ وہ کانفرنس کے موقع پر دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ بھی ان کی ملاقات طے ہے۔ آئندہ دنوں میں روس کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے روشن امکانات ہیں۔ روس کے ساتھ طویل مدتی کثیر الجہتی شراکت داری کا امکان موجود ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔