اسلام آباد (ویب ڈیسک)

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی متحدہ عرب امارات کے دو روزہ دورے پر دبئی پہنچ گئے۔

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر دبئی میں پاکستان کے قونصل جنرل احمد امجد علی، سفارتخانے کے سینئر افسران اور اماراتی وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے وزیر خارجہ کا خیر مقدم کیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم اور دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات
کی جس میں دو طرفہ تعلقات، باہمی اقتصادی و معاشی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین کے مابین پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے وزیراعظم شیخ محمد بن راشد کو یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا اور ان کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کریں گے۔ توقع ہے کہ وزیر خارجہ کے اس دورہ سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیر خارجہ کا یہ دورہ مسلم ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط کے فروغ کا تسلسل ہے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔