پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند ،، موٹروے بند

حد نگاہ انتہائی کم ،پروازوں کا شیڈول متاثر،ٹرینیں بھی تاخیر کا شکار

لاہور(ویب ڈیسک )پنجاب کے مختلف علاقوں میں دھند چھائی رہی ، مختلف مقامات پر موٹر وے کو بند کردیا گیا ،پروازوں کاشیڈول بھی متاثر ہوا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہورسمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید دھند کے باعث کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ،لاہورمیں شدید دھند کے باعث حد نگاہ 20 میٹر تک ریکارڈ کی گئی،دھند کے باعث جہلم میں 10 میٹر،گوجرانوالہ میں 30میٹر حد نگاہ ریکارڈ کی گئی،جھنگ،فصل آباد اور جوہرآباد میں حدنگاہ 50 میٹر تک ریکارڈ کی گئی،گجرات اور قصور میں حد نگاہ 100میٹر تک ریکارڈ کی گئی،حافظ آباد میں 200میٹر جبکہ بہاولپور میں 4سو میٹر حد نگاہ ریکارڈ کی گئی۔ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق شدید دھند کے باعث ٹریفک کے لئے موٹروے بند رہی ۔ لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے اطراف میں شدید دھند کے باعث ائیرپورٹ پر فلائیٹ آپریشن  متاثر ہوا اور اندرون و بیرون ملک 12پروازوں کی آمد اور روانگی متاثر ہوئی،ایئرپورٹ سے ایک پرواز کی روانگی منسوخ جبکہ 5 پروازوں کی روانگی تاخیر کا شکار ہوئی، ایئر پورٹ آنے والی 6 پروازوں کی آمد میں تاخیر ہوئی۔فیصل آباد ریلوے حکام کے مطابق ریلوے سٹیشن پر دھند کے باعث ٹرینوں کا شیڈول متاثر ہوا، کراچی سے براستہ فیصل آباد، لاہور پشاور اور راولپنڈی جانے والی تمام ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں،لاہور جانے والی قراقرم اور ملت ایکسپریس تین گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں،راولپنڈی جانے والی پاکستان ایکسپریس چار گھنٹے تاخیر کا شکار ہے،پشاور جانے والی سرسید اور رحمان بابا ایکسپریس چار چار گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں۔ mk/ah

 

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔