لاہور (ویب ڈیسک)

ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے کہا ہے کہ سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیراہتمام  حال ہی میں ہونے والی پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پنجاب میں ہاکی کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، چیمپئن شپ سے سامنے آنے والے ٹیلنٹ کوضائع نہیں ہونے دیں گے،40 کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا ہے جن کو ایک ماہ کی تربیت دی جائے گی، یہ بات انہوں نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہی، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے مزیدکہا ہے کہ پہلی قائداعظم انٹر ڈویژن ہاکی چیمپئن شپ میں پنجاب بھر سے ہاکی کے کھلاڑیوں کو بھرپور موقع فراہم کیا گیا،کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ، کھلاڑیوں کے کھیل کو مانیٹر کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے ، سپورٹس بورڈ پنجاب نے ہمیشہ ہاکی کو فروغ دینے میں اولیت دی ہے، چیمپئن شپ بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھی، ایک ماہ کے تربیتی کیمپ میں 40 منتخب کردہ کھلاڑیوں کو ماہر کوچز اور ٹرینرز تربیت دیں گے، ایک ماہ کی تربیت کے بعد 25 بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے اور ان کومزید تربیت دے کر قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کے لئے تیار کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے بغیر ہاکی کو فروغ نہیں دیا جاسکتا ، اسی لئے چیمپئن شپ میں لاکھوں روپے کے انعامات دیئے گئے ہیں، ایسے ایونٹس مسلسل کراتے رہیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیلنٹ سامنے آئے، ہاکی کے کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی سہولیات اور تربیت دیں گے تاکہ پاکستان ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلے.

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔