نئی مردم شماری کا نوٹیفکیشن، انتخابات مارچ تک جاسکتے ہیں، قانونی ماہر

اسمبلی پہلے تحلیل کرنے پر 90 دن میں انتخابات ہونے چاہیے، ماہرین کی خصوصی گفتگو

اسلام آباد( ویب  نیوز)

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر انتخابات میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں، تاہم مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہےِ اور انتخابات مارچ تک جاسکتے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری کا کہنا تھا کہ عدالت سے بدتمیزی کسی صورت جائز نہیں، ججز اور وکلا کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے، عدالت پر تحفظات ہوں تو درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔عابد زبیری کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، سابق وزیراعظم پر180مقدمات بنا دیئے گئے ہیں، اور وہ ایک سے دوسری عدالت میں چکر لگا رہے ہیں، سیاسی لیڈرز پر سیاسی مقدمات بنائے جاتے ہیں، ثبوت پیش کرنا پروسیکیوشن کی ذمہ داری ہے۔پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ ملک میں عام طور پر 3،4 سال تک کیس سماعت کیلئے ہی مقرر نہیں ہوتا، جب کہ فیصلوں میں تاخیر بھی قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے۔حسن رضا پاشا نے کہا کہ پہلی بار دیکھا کہ کرمنل ٹرائل میں حکم امتناع ملا ہو، توشہ خانہ کیس میں37 بار سماعت ملتوی کرائی گئی، اور اس کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی صرف 3 بار پیش ہوئے۔حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے 60 دن میں الیکشن ہونے چاہیے، اسمبلی پہلے تحلیل کرنے پر 90 دن میں انتخابات ہونے چاہیے۔چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ آئینی طور پر انتخابات میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں، تاہم مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہےِ، مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ضروری ہیں، حلقہ بندیوں کے بعد مارچ تک انتخابات ہو سکتے ہیں۔سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہوتی، ایک جرم میں 2 بار سزا نہیں ہوسکتی۔راجا خالد محمود نے کہا کہ سیشن کورٹ میں توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے، اس کیس کی سماعت میں بد تمیزی کی گئی، وکلا کو عدالت میں ایسا رویہ اختیارنہیں کرنا چاہئے، ان کا کام عدالت کی معاونت کرنا ہوتا ہے ۔۔