چوہدری نثار علی خان حلف نہ اٹھانے کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 5 ارکان کی رکنیت معطل کررکھی ہے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

تحریک انصاف کے 5ارکان سمیت 9اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے سینیٹ میں ووٹ خطرے میں پڑ گئے ہیں،چوہدری نثار علی خان حلف نہ اٹھانے کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ قومی اسمبلی کے ایک اور مختلف صوبائی اسمبلیوں کے 8ارکان نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان 9 اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت معطل کررکھی ہے۔جن ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل ہے ان میں این اے 185رکن قومی اسمبلی مخدوم زادہ سید باسط احمد سلطان، پی پی 50 نارووال سے خواجہ محمد وسیم، پی پی 136شیخوپورہ سے خرم اعجاز، پی پی 272مظفرگڑھ سے زہرا بتول، پی ہی 275مظفر گڑھ سے خرم سہیل خان لغاری، پی ایس 72 بدین سے حسنین علی مرزا، پی کے 109کرم سید اقبال میاں اور پی کے 111نارتھ وزیرستان محمد اقبال خان کی رکنیت بھی معطل ہے۔مخدوم زادہ سید باسط احمد سلطان آزاد حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، اس کے علاوہ تحریک انصاف کے 5 جب کہ(ن)لیگ اور جی ڈی اے کے ایک ایک رکن کی رکنیت معطل ہے۔ اس کے علاوہ چوہدری نثار علی خان حلف نہ اٹھانے کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

مزید

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار Published On 17 December,2025 05:31 am whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button واشنگٹن: (دنیا نیوز) شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش جیسی قرار دیدی گئی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں سے روابط برقرار ہیں، جلد دنیا کو ایسی نسل سے واسطہ پڑے گا جو عالمی جہاد کو دینی فریِضہ سمجھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے مدرسوں کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کے بھی انکشافات کئے گئے، طالبان کے تحت مدرسہ اور تعلیمی نظام کو نظریاتی ہتھیار میں بدلا گیا، تعلیم کو اطاعت اور شدت پسندی کی ترغیب کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2021 کے بعد مدارس کے نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت کیلئے ڈھال دیا گیا، طالبان کی تشریح اسلام افغان یا پشتون روایات کا تسلسل نہیں، طالبان کا تشریح کردہ اسلام درآمد شدہ اور آمرانہ نظریہ ہے، طالبان کا نظریہ تعلیم نہیں نظریاتی اطاعت گزاری ہے۔