بلوچستان میں سینٹ کی 12نشستوں میں سے حکومتی اتحاد 8 اپوزیشن 4نشستوں پر کامیاب

سینیٹ انتخابات،12خالی نشستوں پر پولنگ کا عمل مکمل ،غیرسرکاری نتائج جاری
12نشستوں میں سے حکومتی اتحادنے 8جبکہ متحدہ اپوزیشن نے 4نشستوں پر کامیابی حاصل کی
، ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی دو دو نشستوں پر مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا ،پہلا ووٹ زمرک اچکزئی نے کاسٹ کیا
7جنرل نشستوں پر حکومتی اتحادکے 5جبکہ اپوزیشن کے 2سینیٹرز منتخب ہوسکیں ،اقلیتی نشست بھی حکومت کے حصے میں آئی

کوئٹہ(ویب  نیوز)بلوچستان میں سینٹ کے 12نشستوں میں سے حکومتی اتحادکو 8جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حمایت یافتہ 4امیدوار کامیاب ہو کر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں ،کل 7جنرل نشستوں پر حکومتی اتحادکے 5جبکہ اپوزیشن کے 2، ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی دو دو نشستوں پر مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا جبکہ اقلیتی نشست پر بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو بلوچستان اسمبلی کی عمارت میں سینٹ انتخابات کے لئے پولنگ کا سلسلہ صبح 9بجے شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے شام 5بجے تک جاری رہا ۔ بلوچستان اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما و صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی ، دوسرا ووٹ بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ میر طارق مگسی اور تیسرا ووٹ حاجی محمد خان لہڑی نے کاسٹ کیا جبکہ خواتین میں سب سے پہلا ووٹ پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشری رند نے جبکہ آخری ووٹ بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حمل کلمتی نے استعمال کیا ۔ بلوچستان میں سینٹ کی 12نشستوں کے لئے کل 28امیدواران کے درمیان مقابلہ ہوا ،7جنرل نشستوں کے لئے 15 امیدواران ، 2ٹیکنوکریٹ سیٹوں کے لئے 4، خواتین کی 2نشستوں کے لئے 7جبکہ اقلیت کے ایک نشست کے لئے 4امیدوار میدان میں تھے ۔ جنرل نشستوں پر بلوچستان عوامی پارٹی کے 4امیدوار پرنس آغا عمر احمد زئی ، میر سرفراز بگٹی ، عبدالخالق اچکزئی اور منظور احمد کاکڑ جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساجد ترین ایڈووکیٹ اور محمد قاسم رونجھو، جمعیت علما اسلام کے مولانا غفور حیدری اور خلیل بلیدی ، عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب عمر فاروق کاسی ، جمہوری وطن پارٹی کے محمد جواد ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ اور حکومتی اتحاد کا حمایت یافتہ آزاد امیدوار عبدالقادر کے درمیان مقابلہ ہوا۔پریزائیڈنگ آفیسر محمد رزاق بلوچ کے مطابق جنرل نشستوں پر حکومتی اتحاد کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عبدالقادر گیارہ ، جمعیت علما اسلام کے مولانا غفور حیدری 9،بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد قاسم رونجھو9،بلوچستان عوامی پارٹی کے منظور احمد کاکڑ ،سرفراز بگٹی ،پرنس آغا عمر احمدزئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب عمر فاروق کاسی نے آٹھ آٹھ ووٹ لے کامیاب قرار پائے ۔ اسی طرح ٹیکنوکریٹ کی 2نشستوں پر جمعیت علما اسلام کے کامران مرتضی ایڈووکیٹ ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساجد ترین ایڈووکیٹ ، بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید ہاشمی اور نوید جان کے درمیان مقابلہ ہواجن میں سے جمعیت علما اسلام کے کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے 23اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید ہاشمی نے 21ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ۔ اس کے علاوہ خواتین کی 2نشستوں پرجمعیت علما اسلام کی آسیہ ناصر ، عوامی نیشنل پارٹی کی بینش سکندر مسیح ، بلوچستان عوامی پارٹی کی ثمینہ ممتاز اور کاشفہ گچگی ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی طاہرہ جتک اور شمائلہ اسماعیل کے علاوہ گزشتہ روز بی این پی میں شمولیت اختیار کرنے والی آزاد امیدوار نسیمہ احسان شاہ کے درمیان مقابلہ ہوا ۔ جن میں بلوچستان عوامی پارٹی کی امیدوار ثمینہ ممتاز نے 27اور گزشتہ روز بی این پی میں شمولیت اختیار کرنے والی نسیمہ احسان نے 21ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ دریں اثنا اقلیتی نشست کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے بینش سکندر ، بلوچستان عوامی پارٹی کے دھنیش کمار ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سنیل کمار اور جمعیت عللما اسلام کے ہیمن داس کے درمیان مقابلہ ہوا جس پر بلوچستان عوامی پارٹی کے دھنیش کمار 40ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے اور اس کے مدمقابل جمعیت علما اسلام کے امیدوار ہیمن داس 25ووٹ لے کر دوسرے نمبرپر رہے ۔سینٹ انتخابات کے موقع پر کوئٹہ شہر میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے بلکہ سرکاری میڈیا کے علاوہ کسی بھی چینل اور اخبارکے نمائندے کو اسمبلی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے میڈیا نمائندوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے باہر کھڑے ہو کر سینٹ انتخابات کی کوریج کی ۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.