سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوتے تو مسائل نہ ہوتے  اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت

اپوزیشن کو مذاکرات کی حکومتی دعوت، لانگ مارچ  منسوخ کرنے کا مطالبہ
سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوتے تو مسائل نہ ہوتے وزراء

اسلام آباد (ویب  نیوز)حکومت نے  واضح کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوتے تو مسائل نہ ہوتے  اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے لانگ مارچ  منسوخ کرنے کا  مطالبہ کردیا گیا ہے ۔ اس امر کا اظہار اتوار کو وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اور وزیراطلاعات ونشریات  سینیٹرشبلی فراز نے  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ فواد چودھری نے کہا کہ مریم کو لندن نہیں جانے دیں گے۔ پہلے ابو بچاو مہم تھی، اب مجھے لندن جانے دو مہم چل رہی ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ  سے  لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہو وفاقی وزیر نے پیش کش کی کہ حکومت سے اپوزیشن مذاکرات کرے۔  انھوں نے کہا کہ نیب اور عدالتوں پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں۔ آج اگر سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوتے تو مسائل نہ ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید لطیف بیچارا شطرنج کامہرہ ہے،یہ لوگ بانی متحدہ بننا چاہتے ہیں لیکن یہ شوق رکھنے والے اپنا انجام بھی یاد رکھیں،پاکستان زندہ باد یا پاکستان کھپے قومی نعرہ ہے۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور الطاف حسین کی تربیت ایک ہی کھوکھ سے ہوئی تھی، یہ سیاسی لوگ نہیں ہیں اور نہ ان کا کوئی سیاسی وژن ہے، میں ان سیاسی نابالغوں کو کہنا چاہوں گا کہ الطاف حسین بنے تو پھر اس کا انجام بھی اپنے سامنے رکھیں۔  فواد چوہدری نے کہا کہ اس بات سے ہر پاکستانی کا دل دکھی لیکن یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کیوں نواز شریف اور الطاف حسین دونوں 1985 کی سیاست کا تحفہ ہیں جن کی قیمت ایک الیکشن ہے، ایک انتخاب ہار جائیں تو ریاستی اداروں کے خلاف، مخالف سیاسی جماعتوں اور ریاست کے خلاف شروع ہوجاتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میں جاوید لطیف کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آج پاکستان نہ ہوتا اور آپ لوگ جاتی امرا میں ہوتے تو نواز شریف کو جتنا کھانے پینے کا شوق ہے وہاں ان کو گائے کا گوشت کھانے کے چکر میں وہ لوگ پتھر مار مار کر فارغ کردیتے۔ انہوں نے کہا کہ اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں، الیکشن میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، نتائج آپ کی توقع کے مطابق نہیں آئیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ منہ اٹھا کر ریاست کے خلاف بیانیہ شروع کردیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم یہاں غداری کے سرٹیفکیٹس دینے نہیں بیٹھے لیکن پاکستان کے عوام فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان لوگوں کی قیمت کیا ہے، نہ ان کا کوئی سیاسی وژن ہے نہ سیاست کا کوئی مقصد یا اصول ہے جس پر یہ کھڑے ہوں، ہر لمحہ اپنا اصول تبدیل کرتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جاوید لطیف کی اپنی کوئی سوچ نہیں، وہ بچارا شطرنج کا مہرہ ہے جس کو ٹیپ ریکارڈر نے اسے پیچھے سے پڑھایا اس نے آ کر ٹی وی پر پڑھ دیا، اصل سوچ ان کی ہے جو الطاف حسین بننا چاہتے ہیں۔تاہم  وہ بھی لندن سے واپس نہیں آرہا آپ بھی لندن سے واپس نہیں آ پا رہے، جو یہاں پر ہیں انہیں ہم شاید لندن نہ جانے دیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کوششیں تو بہت ہیں دل بھی بہت ہے ساری مہم پہلے یہ تھی کہ پاپا بچا اور اب مجھے لندن جانے دو، اس طرح ملک نہیں چلا کرتے۔ان کا کہنا تھا مریم نواز کی ضمانت منسوخی بہت مستحسن اقدام ہے، ہماری اور پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ نیب جو کیس شروع کرے اسے منطقی انجام تک پہنچائے کیوں کہ کیسز ہوتے ہیں پھر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیس کدھر گیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس سے ہم پر بھی اثر آتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں احتساب کا بیانیہ شکست کھارہا ہے کیوں کہ مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچتے کیوں کہ نواز شریف اور مریم دونوں عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں لیکن ان کے رویے سے لگتا ہے جیسے کوئی انقلابی سوچ لے کر آئے ہیں، حالانکہ ان کی انقلابی سوچ بس یہی ہے کہ ہمارے پیسے ہمارے پاس رہنے دو۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارا ان کے ساتھ کوئی ذاتی جھگڑا نہیں، ہمارا ان سے یہی مطالبہ ہے کہ آپ پاکستان کے پیسے واپس کریں یا جیل کاٹیں۔جاوید لطیف سے جو کہلوایا گیا اس پر پاکستان کے عوام کو بہت غصہ ہے اور یہ قابل قبول نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن سیاسی نابالغوں کے ہاتھوں میں اپنی سیاست گروی نہ رکھے، مریم اور بلاول کو سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے، ان جماعتوں کے سینئر لوگ پالیسی سازی کو سنبھالیں۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن لانگ مارچ مخر کرے اور حکومت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر ہمارے ساتھ بات کریں ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ کے الیکشن شفاف بنائے جائیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جاسوسی کیمرے کی آڑ میں مصطفی نواز کھوکھر اور مصدق ملک نے سینیٹ کی الیکٹرک وائرنگ خراب کر دی ہے ویسے تو 60 ہزار کا نقصان بنتا ہے لیکن انہیں 54 ہزار روپے کا بل بھجوا رہے ہیںوفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک ایسا گٹھ ہے جس کا آپس میں جوڑ نہیں بنتا۔ استعفوں اور لانگ مارچ پر ان میں اختلافات سامنے آچکے ہیں، سینیٹ کے الیکشن میں یہ ہی ثابت ہوا کہ مسلم لیگ (ن)نے پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ایک چانس ہے وہ کورونا کی وجہ سے اپنا لانگ مارچ ختم کردیں کیوں کہ ویسے بھی انہیں لانگ مارچ سے کچھ نہیں ملنے والا۔  وزیراعظم عمران خان نے حکمت عملی کے تحت روزگار اور انسانی جانوں دونوں کو بچایا، ہماری کامیابیوں کو دنیا نے سراہا ہے، اس قسم کے بحرانوں میں قیادت کا پتا چلتا ہے عالمی وبا کووڈ 19میں بڑی بڑی معیشتیں متاثر ہوئی ہیں لیکن ہماری کامیاب حکمت عملی کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.