مقبوضہ کشمیر بھارتی فوجی دہشت گردی، 600روز کے محاصرے کے دوران 323کشمیری شہید کر دیے

مقبوضہ کشمیر بھارتی فوجی دہشت گردی، 600روز کے محاصرے کے دوران 323کشمیری شہید کر دیے
بھارتی فو ج کا شمالی  وجنوبی کشمیر کا محاصرہ و تلاشی آپریشن،دیائے چناب سے ایک شخص کی لاش برآمد

سرینگر(ویب نیوز  ) مقبوضہ جموںوکشمیر میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے 5اگست 2019کو مسلط کیے گئے فوجی محاصرے کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی مسلسل اجیرن بنی ہوئی ہے۔  600روز کے محاصرے کے دوران 323کشمیری شہید کئے گئے ، ہفتہ کو مقبوضہ کشمیرمیںفوجی محاصرے کے 6سو روز مکمل ہونے پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 7خواتین سمیت 323کشمیری شہید کیے جن میں سے زیادتر کو محاصرے اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں کے دوران جعلی مقابلوںمیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ زیادتر نوجوانوں کو گھروں سے حراست میں لینے کے بعدان پر مجاہد ہونے یا پھر مجاہد تنظیموں کیساتھ کام کرنے کا الزام عائد کر کے شہید کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ چھ سو روز ( قریباً20ماہ)کے محاصرے کے دوران ہونے والی ان شہادتوں کے نتیجے میں 17خواتین بیوہ جبکہ 39بچے یتیم ہو گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز اہلکاروں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین فائرنگ ، پیلٹ چھروں اور آنسو گیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں 1ہزار7سو 53افراد شدید زخمی ہو گئے   رپورٹ میںکہا گیا کہ اس عرصے میں حریت ہنمائوں ، کارکنوں ، خواتین ، طلبا اور کم عمر لڑکوں سمیت کم از کم14ہزار 6سو21افراد گرفتار کر لیے گئے جن میں سے ہزاروں پر کالے قوانین لاگو کیے گئے۔ فوجیوںنے اس عرصے کے دوران 1ہزار 8مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ کیں جبکہ 106کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں قابض بھارتی فوجیوں نے شمالی و جنوبی کشمیر کے کپواڑہ اور کولگام اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں جس دوران قابض اہلکاروں نے لوگوں کی سخت ہراساں کیا اور غیض و غضب کا نشانہ بنایا۔  فوجیوں نے ضلع کپواڑہ کے علاقے سپان یارو ہندواڑہ کو محاصر ے میں لیکر گھر گھر تلاشی کی کارروئی عمل میں لائی ۔ بھارتی فوجیوں نے ضلع کولگام کے علاقے پانی پورہ میں تلاشی آپریشن کیا ۔ قابض بھارتی فوجیوں نے تلاشی آپریشوں کے دوران لوگوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کیا ، ضلع پلوامہ میں ایک نوجوان گزشتہ ایک ہفتے سے اپنے گھر سے لاپتہ ہے ۔ ضلع کے علاقے ڈاڈسر کا رہائشی انیس سالہ کاشف میر 20مارچ سے لاپتہ ہے۔ لاپتہ نوجوان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوںنے کاشف کو کافی تلاش کیا لیکن اسکا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اہلخانہ نے اسکی گمشدگی کی رپورٹ تھانے میںدر ج کر ا دی ہے۔ شاشف میر کے دو بڑے بھائیوں نعیم بشیر اور عادل بشیر کو بھارتی فوجیوں نے 2010اور 2014میں شہید کر دیا تھا،علاوہ ازیں جموں خطے کے ضلع ڈورہ میں دریائے چناب سے ایک 32سالہ ڈرائیور وکرم سنگھ کی لاش برآمد ہوئی ہے۔  وکرم سنگھ کشتواڑ کے علاقے سندر نگر ٹاکری کا رہائشی تھا ۔ اسکی گاڑی کوچھ مارچ کو حاد ثہ پیش آیاتھا اور وہ گاڑی سمیت دریا چناب میں جا گرا تھا۔